انسان اور نظام ربوبیت
الرسالہ، اگست ۲۰۱۲
فطرت میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی چیزیں بطور امکان رکھی ہیں۔ آدمی اللہ کی توفیق سے ، ان امکانات (potentials) کو واقعہ (actual) بناتا ہے۔
تہذیب (civilization) کا ارتقا اسی دوسری ربوبیت سے تعلق رکھتا ہے۔ تہذیب کے تمام اجزا امکان کی صورت میں فطرت میں موجود تھے۔ اللہ کی توفیق سے انسان نے ان امکانات کو واقعہ بنایا۔ اس طرح ایک تدریجی عمل (gradual process) کے ذریعے موجودہ تہذیب وجود میں آئی۔ مثلاً انسان کی ایک ضرورت اپنے وجود کی توسیع ہے۔ اسی توسیع کا ایک ذریعہ وہ ہے جس کو سفر کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ابتدا میں یہ کیا کہ اس نے انسان کو دو پاؤں دئے جس کے ذریعے وہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچ سکے۔ پھر جنگل میں اونٹ اور گھوڑے اور خچر جیسے حیوانات پیدا کئے جن کو پکڑ کر انسان سدھائے اور پھر اُن کو اپنی سواری (vehicle) کے طور پر استعمال کرے۔ اس طرح ، اللہ کی توفیق سے انسان نے کشتی بنائی اور اس طرح وہ پانی کو اپنی گزرگاہ کے طور پر استعمال کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ پھر انسان نے اللہ کی توفیق سے پہیہ (wheel) بنایا۔ اس سے انسان کے لیے بری سفر کا نیا دور شروع ہو گیا۔ اس کے بعد اللہ کی توفیق سے انسان نے فطرت کی کچھ اور طاقتیں دریافت کیں جس سے تیز رفتار مشینی سواریاں وجود میں آئیں۔ مثلاً ریل اور کار اور ہوائی جہاز ، وغیرہ۔ سفر کے تیز رفتار ذرائع اور دوسری ترقیاتی چیزیں ، جن کا تعلق تہذیب سے ہے، وہ سب اللہ تعالیٰ کی توفیق سے انسان کو حاصل ہوئیں۔ اس اعتبار سے ، تہذیب کا پورا معاملہ الہی ربوبیت کا ایک حصہ ہے۔ تہذیب کا ارتقا بظاہر انسان کے ذریعے ہوا ، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تمام تر اللہ کی توفیق سے انجام پایا۔ اللہ کی خصوصی توفیق کے بغیر انسان ، فطرت کی اُن دریافتوں تک نہیں پہنچ سکتا تھا جن کے نتیجے میں تہذیب کا واقعہ ظہور میں آیا۔
انسان اور نظام ربوبیت
انسان ایک مکمل وجود ہے ، مگر اسی کے ساتھ وہ مکمل طور پر ایک غیر مکلفی وجود ہے۔ انسان کو اپنے وجود کی تکمیل کے لیے ہر لمحہ ایک مددگار نظام درکار ہے۔ اس نظام کے بغیر وہ وجود کو باقی
‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues