Al-Risala · August 2012 · page

انسان اور نظام ربوبیت

الرسالہ، اگست ۲۰۱۲

نہیں رکھ سکتا۔ اسی مددگار نظام کا نام نظامِ ربوبیت ہے، یعنی رب العالمین کا قائم کردہ نظام۔ انسان کے اندر نظامِ ہضم ہے، مگر غذائی اشیا کی سپلائی باہر سے ہوتی ہے۔ انسان کے اندر نظامِ تنفس ہے، مگر آکسیجن اس کو خدا کے کارخانے سے ملتا ہے۔ انسان کے پاس نظامِ بصارت ہے، مگر وہ روشنی خدا کی طرف سے آتی ہے جس کے بغیر وہ دیکھ نہیں سکتا۔ انسان کے پاس نظامِ سماعت ہے، مگر اُس ہوا کو چلانے والا خدا ہے جس کے بغیر انسان سن نہیں سکتا، وغیرہ۔ انسانی وجود کے اندر اس قسم کے بہت سے نظام ہیں، مگر ہر نظام اپنی کارکردگی کے لیے خارجی مدد کا محتاج ہے۔ یہ مختلف قسم کے خارجی نظام جس پر انسان کی زندگی کا انحصار ہے، اس کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔ یہ لائف سپورٹ سسٹم نہ ہو تو انسان کا پورا وجود بے معنی ہو جائے گا۔ مچھلی پانی کے باہر مسلسل تڑپتی رہتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ اس کو زندہ رہنے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہے اور مچھلی صرف پانی سے آکسیجن لے سکتی ہے۔ مچھلی کی یہ مثال ہر آدمی کے لیے بہت زیادہ سبق آموز ہے۔ ہر وقت انسان کو سوچنا چاہیے کہ خدا اگر لائف سپورٹ سسٹم یا بالفاظ دیگر اپنے نظامِ ربوبیت کو واپس لے لے تو میرا کیا حال ہوگا۔ یہ سوچ اگر آدمی کے اندر حقیقی طور پر پیدا ہو جائے تو یہی ایک بات اس کے اندر تمام اعلیٰ قدروں (values) کو پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے گی۔ مثلاً تواضع (modesty)، شکر، عفو و درگزر، خیر خواہی، انصاف، وغیرہ۔ شکر کے دو درجے اس دنیا میں انسان کو اپنے وجود سے لے کر لائف سپورٹ سسٹم (life support system) تک جو چیزیں ملی ہیں، وہ سب کا سب اللہ کا عطیہ ہیں۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پورے دل و جان کے ساتھ ان انعامات کے منعم (giver) کا اعتراف کرے۔ خدا کے اسی اعتراف کا مذہبی نام ’شکر‘ ہے۔ اِس شکر یا اعتراف کے دو درجے ہیں ــ ایک ہے، نارمل اعتراف (normal acknowledgement)، اور دوسرا ہے، تخلیقی اعتراف (creative acknowledgement)۔ نارمل شکر کی مثال یہ ہے کہ آپ کو پیاس لگی۔ آپ نے

‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues

Printed page