تمکین فی الارض
الرسالہ، اگست ۲۰۱۲، صفحہ ۱۰
ان کے بارے میں یہ مطلوب ہے کہ ان کو ہر حال میں یہ موقع حاصل رہے کہ وہ خدائے واحد کی آزادانہ عبادت کریں اور پرامن دعوت الی اللہ کو کسی رکاوٹ کے بغیر ہر حال میں جاری رکھ سکیں۔ اس لیے اللہ نے اس سلسلے میں یہ اصول اختیار کیا ہے کہ وہ سیاسی اقتدار کے معاملے میں قوموں کو ایک حد تک آزادی دئے ہوئے ہے، لیکن اللہ نے کسی کو یہ حق نہیں دیا کہ وہ عبادت اور دعوت الی اللہ کے کام میں غیر ضروری رکاوٹ پیدا کرے۔ جب بھی کوئی گروہ اس قسم کی غیر ضروری رکاوٹ ڈالتا ہے تو اللہ تعالی تاریخ میں مداخلت کرکے اس غیر ضروری رکاوٹ کو ختم کردیتا ہے، تاکہ آزادانہ عبادت اور پرامن دعوت کا کام کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔
ساتویں صدی عیسوی میں فتنه (جارحانہ شرک) کو ختم کرنے کے لیے اصحاب رسول کو قتال کا حکم دینا اسی مصلحت کے تحت تھا (8: 39)۔ بیسویں صدی عیسوی میں یہی کام ایک اور صورت میں انجام پایا ہے۔ سوویت یونین (کمیونسٹ جبر) دوبارہ دعوت اور عبادت کے معاملے میں اسی قسم کی ایک رکاوٹ بن گیا تھا، اللہ نے اس کو امریکا کے ذریعے 1991 میں توڑ دیا۔
استخلاف یا تمکین کا مطلب حکومت الہیہ کا قیام نہیں ہے۔ استخلاف کا تعلق دراصل خدا کی سنت امتحان سے ہے۔ اس سنت امتحان کا ایک پہلو وہ ہے جو فرد سے متعلق ہے، دوسرا وہ ہے جو قوم سے متعلق ہے۔ جس طرح افراد کو اُن کے انفرادی دائرے میں کوئی چیز دے کر اُنھیں جانچا جاتا ہے، اُسی طرح قوموں کو باری باری اقتدار دیا جاتا ہے، تاکہ اُنھیں جانچا جائے (165: 6)۔ استخلاف بمعنی زمینی اقتدار کا تعلق اگر لازماً ایمان اور عمل صالح سے ہو، تو تمام نبیوں کو زمینی اقتدار حاصل ہونا چاہئے تھا، جب کہ معلوم ہے کہ پچھلے نبیوں میں سے صرف دو نبیوں کو زمینی اقتدار ملا، یعنی حضرت داؤد اور حضرت سلیمان۔
اسی طرح تمکین سے مراد تمکین سیاسی نہیں ہے، بلکہ تمکین دینی ہے، یعنی فرد کی نسبت سے دینی ذمے داری ادا کرنے کے لیے جو مواقع درکار ہیں، اُن مواقع کی پوری آزادی۔ فرد کی دینی ذمے داری بنیادی طور پر دو چیزیں ہیں — آزادانہ عبادت، پرامن دعوت ۔ سیاسی اقتدار کے محدود دائرہ میں
‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues