Al-Risala · August 2012 · page

قرآن کا تصور تاریخ ایک جائزہ

الرسالہ، اگست ۲۰۱۲

قرآن کا تصور تاریخ ایک جائزہ

انسائیکلوپیڈیا برٹینکا میں حسب ذیل عنوان کے تحت ایک مقالہ چھپا ہے: (Historiography and Historical Methodology) اس مقالے میں ایک ذیلی عنوان (Muslim Historiography) قائم کیا گیا ہے۔ اس کے تحت مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ۔ محمد نے اسلام کو ایک ایسے مذہب کی حیثیت سے پیش کیا جس میں تاریخ کا طاقت ور تصور موجود تھا۔ اسلام کی مقدس کتاب قرآن انتباہات سے بھرا ہوا ہے جو کہ تاریخ کے اسباق سے ماخوذ ہے: Muhammad made Islam a religion with a strong sense of history. The Quran, Islam's holy book, is full of warnings derived from the lessons of history. (EB. 8/959, 1974)

یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس سے قرآن کا تصور تاریخ معلوم ہوتا ہے۔ قدیم زمانے میں شاہی خاندان (dynasty) کو یونٹ بنا کر تاریخ لکھی جاتی تھی۔ عبد الرحمن ابن خلدون (وفات: 1406) کے بعد ایک نیا دور آیا، جب کہ نیشن (nation) کو یونٹ بنا کر تاریخ لکھی جانے لگی۔ اس کے بعد آرنلڈ ٹائن بی (وفات: 1975) نے بارہ جلدوں میں ایک کتاب (A Study of History) لکھی۔ اس میں تہذیب (civilization) کو یونٹ بنا کر پوری انسانی تاریخ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ قرآن کا تصور تاریخ ان سب سے مختلف ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن کا تصور تاریخ خدائی منصوبہ (divine plan) پر مبنی ہے، یعنی خدا کے تخلیقی پلان کی روشنی میں انسانی تاریخ کا جائزہ لینا ۔ زیر نظر مقالے میں اس قرآنی تصور کے مطابق، تاریخ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس جائزے کے لیے بنیادی طور پر 9 ذیلی عنوانات مقرر کیے گئے ہیں۔ خلافت آدم، اعلان و اسرار، ذبح عظیم، احسن القصص، مقام محمود، آیت اسرا، اظہار دین، لوح محفوظ، ادخال کلمہ۔ جنتی افراد، جنتی معاشرہ قرآن کی سورہ الذاریات کی ایک آیت یہ ہے: وما خلقت الجن والإنس إلا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues

Printed page