Al-Risala · August 2012 · page

ذبح عظیم

الرسالہ، اگست ۲۰۱۲

ہیودانہ، أويمجسانه، أوينصرانہ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1385) یعنی ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی یا مجوسی یا نصرانی بنا دیتے ہیں۔ اس صورت حال کی بنا پر آبائی مذہب ایک سماجی رواج بن گیا تھا۔ اس تسلسل کو توڑنے کے بعد یہ یہ ممکن تھا کہ ایک ایسی نئی نسل بنائی جائے جو اپنی فطری حالت پر قائم ہو اور پھر پیغمبر کی دعوت کو قبول کر کے وہ خدا پرست انسانوں کی ٹیم کا حصہ بن سکے۔

اس مخصوص منصوبے کے تحت، حضرت ابراہیم نے یہ کیا کہ وہ اُس دور کے متمدن ملک عراق کو چھوڑ کر عرب کے صحرا میں آئے اور یہاں خالص صحرائی ماحول میں اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو آباد کیا۔ صحرائی ماحول میں آباد کرنے کا مقصد یہ تھا کہ متمدن دنیا سے منقطع ہو کر ایک نسل بنے جو متمدن ماحول کی کنڈیشننگ (conditioning) سے پاک ہو۔

یہی وہ خصوصی منصوبہ تھا جس کے تحت حضرت ابراہیم کو یہ خواب دکھایا گیا کہ آپ اپنے بیٹے اسماعیل کو ذبح کر رہے ہیں (102 :37)۔ حضرت ابراہیم نے اس معاملے کو اپنے بیٹے کے جسمانی ذبح کے ہم معنی سمجھا اور بیٹے کو لٹا کر اس کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ عین اُس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو اسماعیل کے جسمانی ذبیحہ سے روک دیا۔ اُس وقت فرشتے نے کہا کہ آپ بیٹے کے بجائے ایک دنبہ ذبح کر دیں اور بیٹے کو لے جا کر صحرا میں اُس مقام پر بسادیں، جہاں آج مکہ آباد ہے۔ اس واقعے کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وفديناه بذبح عظيم (37:107) یعنی ہم نے چھڑالیا اسماعیل کو ایک بڑے ذبیحہ کے بدلے۔ یہاں بڑے ذبیحہ سے مراد صحرا کے غیر متمدن اور بے آب و گیاہ ماحول میں آباد ہونا تھا، جو کہ جسمانی ذبیحہ سے بلاشبہ بہت زیادہ سخت تھا۔ اس آیت میں ذبح عظیم (عظیم قربانی) کا لفظ اسماعیل کے لیے آیا ہے، نہ کہ دنبہ کے لیے۔ دنبہ کو حضرت ابراہیم نے بطور فدیہ ذبح کیا اور اسماعیل کو ایک عظیم تر قربانی کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ یہ عظیم تر قربانی کیا تھی، وہ یہ تھی کہ اس کے بعد اسماعیل کو اپنی ماں ہاجرہ کے ساتھ مکہ کے صحرا میں آباد کر دیا گیا، تاکہ اُن کے ذریعے سے ایک نئی نسل تیار ہو۔ اُس وقت یہ علاقہ صرف ایک بے آب و گیاہ صحرا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues

Printed page