Al-Risala · August 2012 · page

احسن القصص

الرسالہ، اگست ۲۰۱۲

کی حیثیت رکھتا تھا۔ وہاں اسباب حیات میں سے کوئی چیز موجود نہ تھی، اس لیے اس معاملے کو قرآن میں ذبح عظیم کا درجہ دیا گیا۔

احسن القصص

قرآن کی سورہ یوسف میں پیغمبر یوسف علیہ السلام کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ اس واقعے کو قرآن کا احسن القصص (3 :12) بتایا گیا ہے۔ احسن القصص کا لفظی مطلب ہے بہترین قصہ (best story) مگر قرآن میں یہ بات قصہ برائے قصہ کے طور پر نہیں آئی ہے، بلکہ وہ ایک اہم سبق (lesson) کے طور پر آئی ہے۔ ہر پیغمبر کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ حق کا داعی ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ دعوت کا عملی نمونہ ہوتا ہے۔ مختلف پیغمبر مختلف حالات میں آئے۔ اس لحاظ سے یہ ہوا کہ مختلف پیغمبروں کے ذریعے مختلف قسم کی عملی مثالیں قائم ہوئیں۔ اُنھیں میں سے ایک مثال یا ماڈل وہ ہے جو حضرت یوسف کے ذریعے قائم ہوا۔

حضرت یوسف کنعان (فلسطین) کے علاقے میں ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو مصر جیسے متمدن ملک کے دارالسلطنت میں پہنچا دیا، جہاں ایک بادشاہ کی حکومت قائم تھی۔ ایسا غالباً اس لیے ہوا کہ حضرت یوسف کے ذریعے دعوت کی جو مثال قائم کرنا مطلوب تھا، وہ مصر جیسے ملک ہی میں ممکن تھی۔ حضرت یوسف کے اس واقعے کی تفصیل قرآن میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس کا اہم پہلو یہ ہے کہ اُس وقت کے مصری بادشاہ نے حضرت یوسف کی صلاحیتوں سے متاثر ہو کر اُنھیں ایک اعلیٰ عہدے کی پیش کش کی۔ اِس پیش کش کو حضرت یوسف نے قبول کر لیا۔ جیسا کہ معلوم ہے، یہ بادشاہ اپنے مذہبی عقیدے کے اعتبار سے مشرک تھا۔ مزید یہ کہ سیاسی تحت بھی بدستور اُس کے قبضے میں تھا۔ اس کے باوجود حضرت یوسف نے بادشاہ کے تخت ملنے والے اس عہدے کو قبول کر لیا۔ قرآن کے مطابق، اس کا سبب یہ تھا کہ خزائن ارض پوری طرح حضرت یوسف کو حاصل ہو رہے تھے۔ قدیم زمانے کے لحاظ سے، خزائن ارض کا مطلب تھا سرزمین مصر کا زراعتی انتظام۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ بھی ایک مطلوب پیغمبرانہ ماڈل ہے کہ داعی اگر ایسے ملک میں ہو، جہاں

‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues

Printed page