لوح محفوظ
الرسالہ، اگست ۲۰۱۲
یورپ میں اس کی تکمیل ہوئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخر کار وہ چیز وجود میں آگئی جس کو کمیونیکیشن کا دور (age of communication) کہا جاتا ہے۔ اس مواصلاتی انقلاب کے بعد یہ ممکن ہو گیا کہ اسلام کی توسیع زمین کے بڑی حصے تک محدود نہ رہے، بلکہ وہ سمندر پار کے ملکوں تک بہ آسانی پہنچ جائے۔ اسلامی دعوت کی عالمی توسیع اول دن سے اسلام کا نشانہ تھی (25: 1)۔ مگر اسلام کی یہ عالمی توسیع، اسباب کی اس دنیا میں ضروری وسائل کے بغیر ممکن نہ تھی۔ جدید مواصلاتی انقلاب نے اس کو پوری طرح ممکن بنا دیا۔ مستقبل میں پیش آنے والا یہی واقعہ تھا جس کی خبر پیشگی طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں دے دی تھی: لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند احمد، رقم الحديث: 24215) یعنی زمین کی پشت پر کوئی گھر یا خیمہ ایسا نہیں بچے گا جس میں اسلام کا کلمہ داخل نہ ہو جائے۔
اسلام ایک دعوتی مشن ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ تمام انسان جو اس زمین پر پیدا ہوئے، اُن کو موت سے پہلے یہ بتا دیا جائے کہ خدا کا تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) ان کے بارے میں کیا ہے۔ انسان کی پوری تاریخ میں اس کو مسلسل طور پر جاری رہنا ہے۔ آغاز کے پہلے مرحلے میں اس کی توسیع زمین کے بری حصہ (ایشیا اور افریقہ) میں ہوتی رہی۔ اس کے بعد استحکام کے ساتھ ایسے مادی اسباب پیدا ہوئے جس کے تحت مواصلاتی ذرائع میں ایسا انقلاب آیا جس کے تحت یہ ممکن ہو گیا کہ اسلامی دعوت کی عالمی اشاعت کا کام کیا جا سکے۔ موجودہ زمانے میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا اور دوسرے ذرائع کی بنا پر اسلامی دعوت کے اس عالمی نشانے کو پورا کرنا آخری حد تک ممکن ہو گیا ہے۔ اسی کے ساتھ موجودہ زمانے میں مذہبی آزادی (religious freedom) بھی مکمل طور پر حاصل ہو چکی ہے۔ اب امت محمدی سے وابستہ افراد کی یہ لازمی ذمے داری ہے کہ وہ اسلام کے دعوتی مشن کو اس کی آخری تکمیل تک پہنچائیں، یہاں تک کہ کئہ ارض پر بسنے والا کوئی مرد یا عورت خدا کے اس پیغام سے بے خبر نہ رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues