Al-Risala · August 2012 · page

امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنج

الرسالہ، اگست ۲۰۱۲

امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنج

میرے مطالعے کے مطابق، عرب و عجم کے تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ زمانے میں امتِ مسلمہ کو مختلف قسم کے چیلنج کا سامنا ہے۔ یہ بھی یک واقعہ ہے کہ تقریباً دو سو سال کی غیر معمولی کوشش کے باوجود یہ چیلنج بدستور باقی ہے۔ ایسی حالت میں یہ بات بے حد قابلِ غور ہے کہ اس چیلنج کا تجزیہ کیا جائے اور اس کے حوالے سے مسلمانوں کا لائحہ عمل متعین کیا جائے۔ چیلنج کیا ہے۔ چیلنج کا لفظ مسئلہ (problem) کے لفظ سے مختلف ہے۔ مسئلہ ایک منفی لفظ ہے، جبکہ چیلنج ایک مثبت لفظ ہے۔ چیلنج نسبتاً ایک نیا لفظ ہے۔ اس کا مطلب ہے ــــ ایک نیا یا مشکل مسئلہ جو کہ آدمی کے لیے اس کی استعداد کا امتحان ہوتا ہے:

A new or difficult task that tests somebody's ability and skill. چیلنج کا رسپانس دینے کی دو صورتیں ہیں ــــ نگیٹیو رسپانس (negative response) اور پازیٹیو رسپانس (positive response)۔ نگیٹیو رسپانس یہ ہے کہ آدمی کو جب کسی چیلنج کا سامنا ہو تو وہ منفی ردِ عمل کا شکار ہو جائے۔ ایسے آدمی یا گروہ کا حال یہ ہوگا کہ چیلنج پیش آنے کے بعد وہ نفرت اور شکایت اور احتجاج کی نفسیات میں مبتلا ہو جائے گا۔ یہی نفسیات اس کو تشدد تک لے جائے گی اور آخر کار خود کش بم باری تک۔

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا یہی حال ہوا ہے۔ تقریباً دو سو سال پہلے اُن کو مغربی اقوام یا مغربی تہذیب کی طرف سے چیلنج پیش آیا۔ عرب سے عجم تک تمام مسلمان کم و بیش اس کا شکار ہوئے۔ مگر تمام مسلمانوں کا حال یہ ہوا کہ انھوں نے اس چیلنج کا منفی رسپانس دیا۔ اس کا فطری نتیجہ یہ ہوا کہ اُن کو ایک طرفہ تباہی کے سوا اور کچھ نہیں ملا۔ اس جدید چیلنج کے مقابلے میں، صحیح طریقہ یہ تھا کہ مسلمان اس کا مثبت رسپانس دیتے۔ اس معاملے میں مثبت رسپانس یہ تھا کہ وہ گہرائی کے ساتھ جدید چیلنج کا مطالعہ کرتے۔ وہ اس قانونِ فطرت کی روشنی میں اس کا مطالعہ کرتے کہ ــــ جب بھی کوئی چیلنج سامنے آتا ہے تو

‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues

Printed page