Al-Risala · August 2012 · page

ایک خطاب

الرسالہ، اگست ۲۰۱۲

ہاتھ رکھا اور کہا کہ: اگر تم سے ہو سکے تو تم اپنی صبح اور شام اس طرح کرو کہ تمھارے دل میں کسی کے خلاف غش نہ ہو، کینہ (malice) نہ ہو، نفرت نہ ہو، یہ سب چیزیں نہ ہوں۔ اس کو ہم اگر دوسرا لفظ دیں تو کہیں گے کہ— مثبت سوچ (positive thinking) کے ساتھ دنیا میں رہو، مثبت سوچ کے ساتھ جیو، مثبت سوچ کے ساتھ مرو۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے جنت ہے۔

دیکھیے ہوتا کیا ہے، ہم سب جانتے ہیں اس بات کو، لیکن ہم کسی چیز کو الگ کر دیتے ہیں۔ مثلاً پولیٹکل (political) شکایت ہوتی ہے تو ہم سوچتے ہیں کہ یہ تو الگ چیز ہے۔ پولیٹکل شکایت الگ چیز نہیں ہے، پولیٹکل شکایت بھی اسی میں شامل ہے۔ دوسری شکایتوں کو لے کر اگر آپ نیگیٹیو (negative) ہوگئے، دوسری شکایتوں کو لے کر اگر آپ کی پازیٹیو تھنکنگ (positive thinking) ختم ہوگئی، تو آپ نے جنت کا رسک (risk) لیا۔ اسی طرح دیکھیے، پولیٹکل شکایتوں کو لے کر اگر آپ نیگیٹیو (negative) ہوگئے، آپ کے اندر نفرت آئی، تشدد آیا، تو بس جنت رسک میں آگئی۔ یاد رکھیے، یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں آپ کو کوئی بھی اکسکیوز (excuse) لینا نہیں ہے۔ نہ پولیٹکل اکسکیوز (political excuse) نہ ہی سوشل اکسکیوز (social excuse) نہ ہی اور کوئی اکسکیوز (excuse)۔

جب بھی کوئی تجربہ آپ کے اندر ناشکری پیدا کرے، آپ کے اندر نفرت پیدا کرے، آپ کو نفرت اور تشدد کی طرف لے جائے، تو سمجھ لیجیے کہ وہ شیطان کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے آغاز ہی میں ایک مثال قائم کردی۔ ایک طرف تھے فرشتے، دوسری طرف تھا ابلیس۔ ابلیس شکایت کے راستہ پر چلا: ”رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِيْ “۔ ابلیس نے نعوذ باللہ، اللہ تعالیٰ سے شکایت کی۔ فرشتوں نے کہا کہ جو آپ کا حکم ہے، یعنی جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، ہم اس کو دل سے مانتے ہیں۔ تو یہ اللہ تعالیٰ نے نمونہ قائم کر دیا کہ جو نفرت اور شکایت اور تشدد کے راستہ پر چلے گا، اس کا انجام شیطان کے ساتھ ہوگا، اور جو محبت، خیر خواہی اور امن اور positivity کے راستے پر چلے گا، اس کے لئے جنت ہے، اس کے لیے اللہ کی رضا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم میں سے ہر شخص کو اسی اعتبار سے اپنا محاسبہ (introspection) کرنا چاہئے کہ ہم نے اپنی family life میں، اپنی social life میں اور اپنی قومی زندگی میں کون سا راستہ

‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues

Printed page