ایک خطاب
الرسالہ، اگست ۲۰۱۲
اختیار کیا ہے نفرت والا راستہ یا محبت والا راستہ، امن والا راستہ یا تشدد والا راستہ۔ اسی سے فیصلہ ہوگا کہ ہم اللہ کے راستے پر ہیں، یا شیطان کے راستے پر ہیں۔
یہ سب سے بڑی چیز ہے جس کا ہمیں ہر صبح وشام محاسبہ کرنا چاہئے۔ کیوں کہ ہر آدمی کو مرنا ہے۔ مرنے کے بعد اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے۔ یاد رکھئے، اللہ کے سامنے کوئی ایکسکیوز (excuse) نہیں چلے گا، کوئی عذر نہیں چلے گا۔ جو پرسنالٹی (personality) آپ نے بنائی ہے، اسی کے ساتھ آپ خدا کے سامنے جائیں گے۔ دنیا میں جو تجربات ہوتے ہیں، اس کے درمیان کیا ہوتا ہے—کسی کی پرسنالٹی، پازیٹیو پرسنالٹی (positive personality) بنتی ہے اور کسی کی نیگیٹیو پرسنالٹی (negative personality) بنتی ہے۔ کوئی آدمی ہوتا ہے نفرت میں جینے والا، کوئی ہوتا ہے محبت اور خیر خواہی میں جینے والا، کوئی ہوتا ہے امن میں جینے والا، کوئی ہوتا ہے تشدد میں جینے والا۔ اسی چیز سے آدمی کی پرسنالٹی بنتی۔ یہی پرسنالٹی آدمی کو یا تو جہنم میں لے جائے گی یا جنت میں لے جائے گی۔ جیسے میں اس وقت دلی میں ہوں۔ میں بول رہا ہوں اور آپ لوگ کشمیر میں میری آواز کو سن رہے ہیں۔ دلی اور کشمیر کے بیچ میں 850 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ اتنی دوری کے باوجود میں آپ کو ایڈریس کر رہا ہوں، آپ میری بات کو سن رہے ہیں۔ کتنی بڑی نعمت ہے یہ۔ پچھلے زمانہ میں کسی بادشاہ کو بھی یہ نعمت حاصل نہیں تھی، اسی کا نام شکر ہے، ہم کو رات دن شکر ہی کرتے رہنا چاہئے۔ میرا مشورہ ہے، شکر میں جینے والا بنئے، شکر کے آئٹم کو تلاش کیجئے، اور ناشکری کے آئٹم کو بھلائیے۔ چاہے پولیٹکل لائف ہو یا کوئی اور لائف ہو، ہر جگہ دونوں قسم کے آئٹم ہوتے ہیں، شکر کے بھی اور اور ناشکری کے بھی۔ تو شکر کے آئٹم کو تلاش کر کے، اس کو اپنے مائنڈ میں بٹھائیے، ناشکری کے آئٹم کو بھلائیے، بھلائیے، بھلائیے، تاکہ آپ کے اندر مثبت شخصیت (positive personality) بنے، یعنی وہ پرسنالٹی جو آپ کو جنت کا مستحق بنائے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو اور آپ کو اس حقیقت کو سمجھنے کی توفیق دے، اور ہم آپ اللہ کے سامنے اس طرح حاضر ہوں کہ اللہ ہمیں قبول کرے، وہ ہمیں رد نہ کردے۔ أقول قولي هذا، وأستغفر الله لي ولكم اجمعين۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2012 All issues