محبت الہی سے محرومی کیوں
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲
محبت الہی سے محرومی کیوں
قرآن کے مطابق ، خدا کی اعلی معرفت صرف اُس شخص کو ملتی ہے جس کو اللہ سے اعلی تعلق قائم ہو جائے ۔ اللہ سے اعلی تعلق کی پہچان یہ ہے کہ انسان کو اللہ سے حب شدید (165:2) اور اللہ سے خوف شدید (9: 18) پیدا ہو جائے۔
جب کسی انسان کو اللہ کے ساتھ اس قسم کا گہرا تعلق پیدا ہو جائے تو اس کے اندر ذکر کثیر (33: 41) کی صفت پیدا ہو جاتی ہے ، یعنی اللہ کو بہت زیادہ یاد کرنا، اللہ کے لیے بہت زیادہ سوچنا۔ اللہ کے ساتھ تعلق میں اگر ایک فی صد بھی کمی آ جائے تو ایسے انسان کو اللہ کی اعلی معرفت حاصل نہیں ہوگی۔
یہود کا حال بعد کے زمانے میں یہ ہوا کہ ان کا گہرا تعلق اللہ سے نہ رہا، بلکہ اپنے اَحبار اور رہبان سے ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں وہ اللہ کی اعلی معرفت سے محروم ہو گئے۔ یہی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا حال ہے۔ مسلمانوں کے ہر گروہ کے کچھ بڑے (bigs) ہیں اور ان کا گہرا تعلق اپنے انھیں بڑوں سے ہے، نہ کہ خداوندذوالجلال سے۔
اپنے ان بڑوں کو انھوں نے مقدس نام دے رکھے ہیں۔ مثلاً اکابر، اسلاف، مشائخ، بزرگان دین، وغیرہ ۔ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے انھیں مفروضہ بڑوں سے گہرا قلبی تعلق رکھتے ہیں ۔ اس گہرے قلبی تعلق کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے ان بڑوں کے خلاف علمی تنقید کو بالکل پسند نہیں کرتے۔
یہ غیر خدا کے ساتھ حب شدید کا تعلق قائم کرنا ہے اور جو لوگ کسی غیر خدا کے ساتھ حب شدید کی نفسیات میں مبتلا ہوں، وہ کبھی اللہ کی محبت کی توفیق نہیں پاتے۔ ایسے لوگوں کے حصے میں صرف رسمی عقیدہ آتا ہے، نہ کہ اعلی ایمان باللہ جو آدمی کو اعلی معرفت تک پہنچانے والا ہو ۔ محبت الہی کی ایک قیمت ہے، اور یہ قیمت ادا کئے بغیر کسی کو اللہ کی محبت حاصل نہیں ہوسکتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues