Al-Risala · January 2012 · page

خدا کا پڑوس

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲

خدا کا پڑوس

جنت کیا ہے ، جنت دراصل خدا کے پڑوس میں رہنے کا نام ہے (66:11)۔ موت سے پہلے کی دنیا میں مومن احساس کے اعتبار سے ، خدا کے پڑوس میں جیتا ہے۔ موت کے بعد کی دنیا میں مومن واقعہ کے طور پر خدا کے پڑوس میں زندگی گزارے گا۔

خدا بلاشبہ تمام خوبیوں کا سر چشمہ ہے۔ اس لیے کسی انسان کو حقیقی سکون صرف خدا کے پڑوس میں مل سکتا ہے ، اس سے کم تر درجے کی کوئی چیز انسان کے لیے حقیقی سکون کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ موجودہ دنیا در اصل اسی قسم کے انسانوں کا انتخابی مقام (selection ground) ہے۔ یہاں اُن انسانوں کو چنا جار ہا ہے جو اپنی صفات کے اعتبار سے ، خدا کے پڑوس میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ جن کی سوچ ، جن کی سر گرمیاں ، جن کے جذبات ، جن کا سلوک ، جن کے معاملات اُس اعلیٰ اخلاقی معیار پر پورے اتریں جو خدا کا پڑوسی بننے کے لیے مطلوب ہیں۔ یہی لوگ اِس عزت کے لیے منتخب کئے جائیں گے۔ یہ انتخاب فرشتوں کے ریکارڈ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ آخرت کی ابدی زندگی میں کسی کو خدا کے پڑوس میں رہنے کی یہ خوش قسمتی تمام تر ذاتی خصوصیت (merit) کی بنیاد پر حاصل ہو گی۔

خدا کا پڑوس گویا کہ ایک کائناتی باغ ہے۔ اس کائناتی باغ میں صرف خدائی معیار پر پورا اترنے والے لوگ ہی جگہ پائیں گے۔ خدائی معیار سے کم تر کوئی چیز کسی آدمی کو اس کائناتی باغ میں جگہ دینے والی نہیں۔

یہ وہ لوگ ہوں گے جنھوں نے دنیا کی زندگی میں صرف خدا کو اپنا واحد کنسرن (supreme concern) بنایا ہو ، جن کی سوچ اور جن کے جذبات تمام تر خدا کے لیے وقف ہو گئے ہوں جن کی صبح بھی خدا کی یاد سے معمور ہو اور جن کی شام بھی خدا کی یاد سے معمور۔ یہی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو خدا کے پڑوس میں رہنے کے لیے منتخب کئے جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues

Printed page