ترکی کا سفر
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲
ترکی کا سفر
راقم الحروف کا ایک سفر ترکی کے لیے ہوا۔ یکم مئی 2012 کی صبح کو دہلی سے روانگی ہوئی اور 7 مئی 2012 کی صبح کو دہلی واپسی ہوئی۔ یہ نئے تجربات سے بھرا ہوا ایک سفر تھا۔ اس سفر کی مختصر روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔ اس سفر میں میرے ساتھ حسب ذیل افراد تھے — مسٹر رِجت ملہوترا، مولانا محمد ذکوان ندوی، ڈاکٹر فریدہ خانم۔
ترکی میں ایک غیر سیاسی تحریک ہے۔ اس کو سوشیو ایجوکیشنل (Socio-educational) تحریک کہا جاسکتا ہے۔ یہ تحریک دنیا کے تقریباً 90 ملک میں کام کر رہی ہے۔ اس تحریک کے بانی اور قائد استاد محمد فتح اللہ گولن (M. Fethullah Gülen) ہیں۔ موجودہ سفر اسی تحریک کی دعوت پر ترکی کے سرحدی شہر غازی عین تیپ (Gazentep) میں منعقد ایک انٹر نیشنل کانفرنس کے لیے ہوا۔ کانفرنس کی بنیادی تھیم یہ تھی — السراج النبوی ينير درب البشرية الحائرة: Solutions for Social Challenges — The Prophet's Way کانفرنس میں شرکت کے لیے رسمی طور پر ہم کو دعوت نامہ ملا، وہ عربی مجلہ 'حراء' کی طرف سے تھا۔ یہ ایک علمی، فکری اور ثقافتی مجلہ ہے۔ وہ ایک دو ماہی (bi-monthly) مجلہ ہے جو استنبول (ترکی) سے نکلتا ہے۔ گولن تحریک کے تحت اس طرح کے کئی میگزین مختلف عالمی زبانوں میں شائع کئے جاتے ہیں۔
یکم مئی 2012 کو صبح سویرے دہلی سے روانگی ہوئی۔ روانگی سے پہلے دہلی کے ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی — انھوں نے جب سنا کہ میں ترکی جا رہا ہوں تو انھوں نے کہا کہ — ترکی میں صرف اپنے لوگ رہتے ہیں یا وہاں غیر قوم کے لوگ بھی ہیں۔ یہ ایک غیر سیاسی اور دین دار مسلمان تھے۔ انھوں نے جو بات کہی، اُس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی سوچ کیا ہے۔ وہ دنیا کو دو قسم کے لوگوں میں بانٹے ہوئے ہیں — اپنے لوگ اور غیر لوگ ۔ اس مزاج نے موجودہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues