Al-Risala · September 2012 · page

ترکی کا سفر

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۲

زمانے کے مسلمانوں سے عام انسانوں کے لیے خیر خواہی چھین لی ہے۔ اسی نفسیات کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر دعوتی ذہن کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ اگر کوئی شخص بظاہر دعوت کا نام لیتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے عام طور پر نام نہاد مسلم ایمپاورمنٹ (Muslim empowerment) کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ گھر سے ائر پورٹ تک کا سفر بہت جلد طے ہو گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ہم لوگ گھر سے صبح کو 3 بجے نکلے تھے۔ اس بنا پر اُس وقت روڈ پر کہیں بھی ریڈ لائٹ نہیں تھی۔ ہم لوگوں کو دہلی سے اندرا گاندھی انٹر نیشنل ائر پورٹ کے ٹرمنل نمبر 3 سے روانہ ہونا تھا۔ اس ٹرمنل کی تعمیر حال میں ہوئی ہے ۔ وہ تقریباً یورپین معیار کا ہے۔ یہ پرائیوٹائزیشن (privatization) کا کرشمہ ہے جس کا آغاز سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ (وفات : 2004) کے زمانے میں ہوا۔

نئے ائر پورٹ کی ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہاں ایک نہایت خوب صورت پر یئر روم (Prayer Room) بنایا گیا ہے۔ اس کا نام اگر چہ پر یئر روم ہے، مگر حقیقت میں وہ مسجد ہے۔ اس کے دو الگ حصے ہیں۔ ایک حصہ مردوں کی عبادت کے لیے اور دوسرا حصہ خواتین کی عبادت کے لیے۔ ہمارے ساتھیوں نے وہاں فجر کی نماز ادا کی اور مسجد میں قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی پمفلٹس برائے مطالعہ رکھ دیے۔

ائر پورٹ کے ایک حصے میں ایک بڑے سائز کا بورڈ لگا ہوا تھا ۔ اس پر انگریزی میں جلی حرفوں میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے ـــ ایسا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا: It has never been done before!

بورڈ لگانے والوں نے کسی اور مفہوم میں یہ بورڈ لگایا تھا، مگر یہ بات زیادہ بڑے پیمانے پر جدید دعوتی مواقع پر صادق آتی ہے۔ مثلاً مذہبی آزادی، عالمی اسفار، ماڈرن کمیونیکیشن اور ملٹی میڈیا، وغیرہ ۔ مذہبی مردم شماری کے ایک امریکی ادارہ (US Religion Census) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب اسلام ہے: The Fastest Growing Religion in America is Islam.

‹ Previous page Next page › Contents of September 2012 All issues

Printed page