Al-Risala · January 2012 · page

سب سے بڑی بے خبری

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲

سب سے بڑی بے خبری

مرنے والے مرگئے ــــ یہ سب کو معلوم ہے۔ مگر ایک اور خبر ایسی ہے جو کسی کو معلوم نہیں، وہ یہ کہ مجھے بھی ایک دن مرنا ہے۔ ایک دن میرا بھی وہی انجام ہونے والا ہے جو انجام دوسروں کا ہو چکا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ لوگ دوسروں کو ہر روز مرتا ہوا دیکھتے ہیں، لیکن خود اپنے آپ کو وہ اُس سے الگ (exempt) کر لیتے ہیں۔ گویا کہ ہر آدمی بلا اعلان اپنی زبانِ حال سے یہ کہہ رہا ہے کہ ــــ دوسروں کو مرنا تھا، وہ مرگئے، لیکن میں تو مرنے والا نہیں۔

یہ بے خبری ایک ہلاکت خیز بے خبری ہے۔ یہ وہ انوکھی بے خبری ہے جس کو شتر مرغ کی عادت (ostrich habit) کہا جاتا ہے۔ کوئی شخص اپنی موت کے بارے میں سوچے یا نہ سوچے، موت بہر حال اس کی طرف دوڑی چلی آرہی ہے۔

موت گویا کہ ایک انفرادی زلزلہ ہے۔ زلزلہ اعلان کے بغیر آتا ہے۔ اسی طرح موت بھی اعلان کے بغیر آتی ہے۔ زلزلے کے مقابلے میں ہر آدمی بے بس ہے۔ اسی طرح موت کے مقابلے میں بھی ہر آدمی بالکل بے بس ہے۔ موت اچانک آتی ہے اور وہ آدمی کے خیالی محل کو مکمل طور پر ڈھادیتی ہے۔ انسان اگر یہ چاہے کہ وہ موت کو روک دے تو ایسا ہونے والا نہیں۔ موت کا اپنا قانون ہے، جو انسان کی مرضی کے بغیر اپنا کام کرتا ہے۔

اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ ہر آدمی موت کے بارے میں بے حد حساس ہو۔ وہ ہر لمحہ موت کو یاد کرتا رہے ۔ ہر روز جب شام آئے تو وہ محسوس کرے کہ اب اس کے لیے اگلی صبح مقدر نہیں۔ ہر روز جب وہ اپنے بستر پر سوئے تو اس کا احساس یہ ہو کہ اب دوبارہ اس دنیا میں میری نیند کھلنے والی نہیں۔ یہ احساس اگر آدمی کو ہو جائے تو وہ آخری حد تک ہل جائے گا۔ اس کے لیے جینا سادہ معنوں میں صرف جینا نہ رہے گا، بلکہ وہ موت کا انتظار بن جائے گا۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو موت کے اچانک حملے سے پہلے موت سے باخبر ہوجائیں، وہ موت کے آنے سے پہلے اس کے لیے تیاری کرلیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues

Printed page