دعوت الی اللہ کی ذمے داری
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲
دعوت الی اللہ کی ذمے داری
مارچ 1978 میں میرا ایک سفر جموں و کشمیر کے لیے ہوا تھا۔ اس سفر میں میری ملاقات مرزا محمد اعظم صاحب (راجوری) سے ہوئی۔ وہ راجوری میں فارسٹر (forester) تھے۔ وہ باہر سے جب کبھی گھر آتے اپنے بچوں کے لیے مٹھائی اور پھل وغیرہ لاتے ۔ ستمبر 1975 کے ایک دن وہ گھر میں داخل ہوئے تو کسی وجہ سے وہ بچوں کے لیے کچھ نہ لا سکے۔ حسب معمول بچے اُن کے گرد جمع ہوگئے۔ جب معلوم ہوا کہ وہ کوئی کھانے پینے کی چیز نہیں لائے تو بچوں کو جھٹکا لگا۔ اُن کے چھ سالہ بچے ارشد محمود طارق نے اپنی پہاڑی زبان میں کہا:
اگر تساں اساں و سطے کچھ نی آندہ ، پھر ٹر س گھمانے و سطے آئے !
(اگر آپ ہمارے لیے کھانے کی کوئی چیز نہیں لائے تو پھر آپ گھر کس لیے آئے ہیں)۔ یہ صرف ایک شخص کا واقعہ نہیں، یہ ہم میں سے ہر ایک پر منطبق ہوتا ہے۔ ہر آدمی جو خدا پر ایمان لائے، ایمان کے ساتھ ہی اس کی یہ ذمے داری بن جاتی ہے کہ وہ دعوت و شہادت کا کام انجام دے، جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنا کام قرار دیا ہے۔ قرآن میں اس کو اللہ کی مدد کرنا کہا گیا ہے (14: 61)۔ ایک صاحبِ ایمان اگر موت سے پہلے کی زندگی میں دعوت و شہادت کا کام نہ کرے تو وہ یہ سنگین خطرہ مول لے رہا ہے کہ آخرت میں جب اْس کا سامنا اللہ سے ہو تو اللہ یہ کہہ دے کہ ــ جو کام میں نے تمھارے سپر د کیا تھا، اْس کو تم نے انجام نہیں دیا، پھر تم یہاں کس لیے آئے ہو: If you failed to perform the task I assigned you, then why did you come here? سنگین لمحہ ہر ایک کے سامنے آخرت میں پیش آنے والا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ ہر صاحبِ ایمان اپنی تو توانائی کا سب سے بڑا حصہ دعوت الی اللہ کے کام میں لگائے، تا کہ وہ اس انجام سے بچ جائے کہ آخرت میں اللہ اْس کو نظر انداز کر دے، جس طرح اْس نے دنیا میں اللہ کے کام کو نظر انداز کر دیا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues