Al-Risala · January 2012 · page

الرساله ـــ ایک مشن

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲

ایک تاثر

مسٹرکشُن جیونت راؤ پاٹل (پیدائش: 1943) ناندیڑ (مہاراشٹر) کے رہنے والے ہیں۔ وہ 1976 سے الرسالہ پابندی کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ ان کے پاس الرسالہ کی مکمل فائلیں موجود ہیں۔ انھوں نے صرف الرسالہ پڑھنے کے لیے اردو زبان سیکھی۔ یکم مئی 2011 کو اُن سے نئی دہلی میں ملاقات ہوئی ۔ میں نے اُن سے الرسالہ کے بارے میں اُن کا تاثر پوچھا۔ انھوں نے کہا الرسالہ پڑھنے سے پہلے، میں بول کر سوچتا تھا۔ اب میں سوچ کر بولتا ہوں ۔ انھوں نے بتایا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک مسلمان پروفیسر نے اُن سے پوچھا کہ آپ کی مصروفیت کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ موت کی تیاری ۔

اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ ماہ نامہ الرسالہ جو لوگ گہرائی کے ساتھ پڑھتے ہیں، اُن کے اندر کس قسم کا مزاج بنتا ہے۔ اس مزاج کو ایک لفظ میں سنجیدگی (sincerity) کہہ سکتے ہیں۔ الرسالہ کا مقصد لوگوں کے اندر صالح سوچ پیدا کرنا ہے، اور جب کسی آدمی کے اندر صالح سوچ پیدا ہو جائے تو اس کا حال وہی ہوگا جس کا ایک نمونہ اوپر کی مثال میں نظر آتا ہے۔

ماہ نامہ الرسالہ میں نہ فخر (pride) کی باتیں ہوتی ہیں اور نہ شکایت (complaint) کی باتیں ۔ الرسالہ میں نہ مسلمانوں کے قومی مسائل کا تذکرہ ہوتا ہے اور نہ الرسالہ میں مسلم ایمپاورمنٹ (Muslim empowerment) کی باتیں ہوتیں ۔

ماہ نامہ الرسالہ میں صرف خدا اور آخرت کی باتیں ہوتی ہیں۔ ایسی تحریروں کا فطری نتیجہ یہ ہے کہ قاری کے اندر شکایت اور احتجاج (protest) کا ذہن نہ پیدا ہو، بلکہ اس کے اندر خود احتسابی (self-introspection) کا مزاج پیدا ہو۔ اللہ کے فضل سے، الرسالہ کے قارئین میں اسی قسم کا مزاج پیدا ہورہا ہے۔ الرسالہ لوگوں کے اندر مثبت سوچ پیدا کرتا ہے، اور مثبت سوچ بلاشبہ تمام خوبیوں اور بھلائیوں کا سر چشمہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues

Printed page