الرساله ـــ ایک مشن
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۲
الرساله ـــ ایک مشن
ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ ماہ نامہ الرساله (نئی دہلی) کے مستقل قاری ہیں ۔ میں نے اُن سے الرساله کے بارے میں اُن کا تاثر پوچھا۔ انھوںنے کہا کہ لوگ عام طور پر چیزوں کو اُس کے فیس ویلو (face-value) پر لیتے ہیں ۔ وہ ظاہر کے اعتبار سے، چیزوں کے بارے میں اپنی رائے بناتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ لوگ الرساله کو بھی عام طرز کا ایک رسالہ سمجھ لیتے ہیں، حالاں کہ وہ رسالہ پلس ہے۔ الرساله یا میگزین کے لفظ سے لوگ جس چیز کو جانتے ہیں، وہ صرف ایک صحافتی مجموعہ ہے۔ لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ الرساله ایک مشن ہے، نہ کہ معروف معنوں میں ، صرف ایک مجلہ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ماہ نامہ الرساله صرف ایک مجلہ نہیں، بلکہ وہ ایک مشن ہے۔ غالباً الرساله کو پڑھنے والوں میں بہت ہی کم ایسے افراد ہوں گے جو اس حقیقت کو سمجھتے ہوں ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ جب کسی چیز کا کوئی معروف ماڈل بن جائے تو لوگ اُس نوعیت کی کسی چیز کو اُسی معروف ماڈل پر قیاس کر کے اُس کے بارے میں رائے بناتے ہیں۔ رسالہ یا پیریڈیکل (periodical) کا ایک معروف ماڈل ماحول میں موجود ہے۔
لوگ اُسی معروف ماڈل پر قیاس کرتے ہوئے الرساله کو بھی صرف ایک پیریڈیکل سمجھ لیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ الرساله، صحافت کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا ایک استثنائی مجلہ ہے۔ الرساله ایک مشن کا نمائندہ ہے۔ ایک شخص پورے مہینے ماہیٔ بے آب کی طرح تڑپتا ہے، اس کے بعد الرساله جیسا ایک پرچہ وجود میں آتا ہے۔
لوگوں نے نہ تو الرساله جیسا کوئی مجلہ پڑھا اور نہ صاحبِ الرساله جیسے کسی مین آف مشن (man of mission) سے کبھی ان کی ملاقات ہوئی۔ اس لیے لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ الرساله کو پڑھ کر بھی الرساله کو سمجھ نہیں پاتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2012 All issues