Al-Risala · October 2012 · page 15

ضمیر کی آزادی

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۲، صفحہ ۱۵

لندن سے 406 صفحات پر مشتمل ایک کتاب چھپی ہے۔ کتاب کا نام اور مصنف کا نام یہ ہے: Richard Dawkins, The God Delusion (2006)

کتاب کے مصنف نے افغانستان کے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے، جب کہ ایک افغانی شخص (عبدالرحمن) نے اپنا مذہب بدل دیا۔ اُس نے اسلام کو چھوڑ کر مسیحی مذہب اختیار کر لیا۔ اس پر افغانستان کی عدالت میں اس کے لیے موت کی سزا سنائی گئی۔ اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے: It is still an article of constitution of 'liberated' Afghanistan that the penalty for apostasy is death. Apostasy, remember, doesn't mean actual harm to persons or property. It is pure thought crime, to use George Orwell's 1984 terminology, and the official punishment for it under Islamic law is death. (p. 287)

یعنی اب بھی آزاد افغانستان کے قانون کا ایک حصہ یہ ہے کہ ارتداد کی سزا قتل ہے۔ یاد رکھیے کہ ارتداد کا مطلب کسی انسان کو یا کسی کی پراپرٹی کو حقیقی نقصان پہنچانا نہیں ہے۔ 1984 میں انگلش آتھر جارج آرویل کی وضع کردہ اصطلاح کو لیتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک خالص 'فکری جرم' ہے، اور اسلام کے قانون کے مطابق، اس جرم کی مسلمہ سزا قتل ہے۔

یہ صرف غلط فہمی کا ایک معاملہ ہے۔ مصنف نے افغانستان میں ہونے والے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے اور اُس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اسلام میں ارتداد کی سزا قتل ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس قانون کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں۔ یہ بعد کے کچھ فقہا کا مسلک ہے، نہ کہ قرآن اور سنت کا مسلک۔ اسلام کے قانون کا مستند ماخذ صرف قرآن وسنت ہے، کوئی بھی دوسری چیز اسلام میں قانون کا ماخذ نہیں۔ جدید مغربی فکر میں آزادی کو خیر اعلیٰ (summum bonum) سمجھا جاتا ہے۔ مغربی مفکرین کا خیال ہے کہ آزادی فکر کے بغیر کوئی ترقی نہیں ہو سکتی۔ اس کے برعکس، وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام میں صرف محدود آزادی کا تصور ہے، اس لیے اسلام دورِ جدید کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ یہ بات صرف غلط فہمی پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں آزادی کی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی کہ مغربی تہذیب

‹ Previous page Next page › Contents of October 2012 All issues

Printed page