Al-Risala · October 2012 · page

ضمیر کی آزادی

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۲

میں۔ اور یہ بالکل فطری بات ہے، کیوں کہ اسلام کے مطابق، انسان کو موجودہ دنیا میں امتحان (test) کے لیے رکھا گیا ہے۔ امتحان کے لیے آزادی لازمی طور پر ضروری ہے۔ آزادی کے بغیر امتحان ممکن نہیں، اس لیے آزادی خود خدا کے تخلیقی پلان (creation plan) کا ایک لازمی حصہ ہے۔ اسلام میں آزادی ہر انسان کا مطلق حق ہے، لیکن وہ ایک شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ یہ شرط وہی ہے جو خود مغربی تہذیب کا مسلمہ ہے، یعنی انسان کو آزادی صرف اپنے ذاتی دائرے میں حاصل ہے۔ آدمی کی آزادی اُس وقت ختم ہو جاتی ہے، جب کہ وہ دوسرے کے لیے ضرر رساں (harmful) بن جائے۔

اس کے علاوہ، اسلام میں آزادی ایک اور لحاظ سے بھی ہے۔ خالق نے اس دنیا میں ہر چیز کو امکان (potential) کے طور پر پیدا کیا۔ اس امکان کو واقعہ بنانے کا کام انسان کو خود کرنا ہے۔ مثلاً خالق نے خام لوہا (ore) بنایا۔ خام لوہے کو مشین کی صورت دینا، یہ انسان کا اپنا کام ہے۔ یہ تمام ترقیاں صرف اُس وقت حاصل ہوسکتی ہیں جب کہ انسان کے اندر آزادانہ طور پر ذہنی سرگرمیاں جاری ہوں۔ اس مصلحت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسان کو اس دنیا میں کامل آزادی حاصل ہو۔ تاہم اسلام میں جرم کی دو قسمیں ہیں ـــــ جرم بہ مقابلہ انسان (crime vis-à-vis man) اور جرم بہ مقابلہ خدا (crime vis-à-vis God)۔ دونوں کا معاملہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ جہاں تک انسان کا معاملہ ہے، ہر انسان کو دوسرے انسان کے مقابلے میں مکمل طور پر فکری آزادی حاصل ہے۔ اُس کا معاملہ صرف اُس وقت قابل مواخذہ یا قابل سزا (punishable) بنے گا، جب کہ وہ دوسرے انسان کے لیے عملی طور پر جارح بن جائے۔

مگر خدا کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ کوئی شخص خدا کو عملی جراحت نہیں پہنچا سکتا۔ خدا کے معاملے میں جرم یہ ہے کہ وہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے خلاف رویہ اختیار کرے، وہ خدا کی بتائی ہوئی صراط مستقیم کا اتباع نہ کرے۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ انسان خدا کے معاملے میں غلط عقیدہ بنائے ۔ مثلاً خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانا، انسان کو خدا کا بیٹا قرار دینا، خدا کے پیغمبر کا انکار کرنا، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2012 All issues

Printed page