ضمیر کی آزادی
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۲
یہ سب چیزیں اگر چہ تھاٹ کرائم (thought crime) کی حیثیت رکھتی ہیں، لیکن وہ خدا کے نزدیک، قابلِ سزا کرائم (punishable crime) ہیں۔ ایسے لوگ اگر اسی حال میں مریں تو بلاشبہ وہ خدا کی سزا کے مستحق قرار پائیں گے۔ لیکن جرمِ بہ مقابلہ خدا کے معاملے میں، سزا کا اختیار صرف خدا کو ہے، جو کہ آخرت میں کسی انسان کو دی جائے گی۔ جرم بہ مقابلہ انسان کے بارے میں فیصلہ کرنا، انسانی عدالت کا کام ہے۔ لیکن جرم بہ مقابلہ خدا کا تعلق انسانی عدالت سے نہیں۔ ایسے معاملے میں انسان کو صرف پر امن دعوت و تبلیغ کا حق ہے، نہ کہ عملی سزا کا حق۔
اسلام میں آزادیٔ ضمیر (freedom of conscience) کی اہمیت اتنی ہی زیادہ ہے جتنی کہ کسی دوسرے نظامِ فکر میں ۔ البتہ اسلامی نظامِ فکر اور سیکولر نظامِ فکر میں اس اعتبار سے ایک فرق پایا جاتا ہے۔ سیکولر نظامِ فکر میں آزادیٔ ضمیر کو مطلق (absolute) حیثیت حاصل ہے، یعنی سیکولر نظامِ فکر کے مطابق، ایک شخص کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز کو مطلق معنوں میں صداقت سمجھے، مگر اسلامی نظامِ فکر میں ایسا نہیں۔ اسلامی نظامِ فکر کے مطابق، صداقت (truth) کا معیار کسی کے ضمیر کی آواز نہیں ہے، بلکہ اس کا معیار وحی الہیٰ ہے۔ جو تصور وحی الہیٰ کے مطابق ہو، وہی درست تصور ہے۔ اور جو تصور وحی الہیٰ سے مطابقت نہ رکھتا ہو، وہ انسان کا ذاتی واہمہ (obsession) یا کنڈیشننگ کا نتیجہ ہے، نہ کہ مطلق معنوں میں صداقت۔
آزادیٔ ضمیر سے وابستہ یہ سوال بھی ہے کہ اظہارِ خیال کی آزادی کا حکم کیا ہے۔ اس معاملے میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ انسان کو اظہارِ خیال کی آزادی کا کلی حق حاصل ہے۔ آدمی جب تک دوسرے انسان کے لیے جارح نہ بنے، اس کو کامل معنوں میں اظہارِ خیال کی آزادی حاصل رہے گی۔ مگر اسلام کے مطابق، انسانی زندگی کے دو مرحلے ہیں—موت سے پہلے، اور موت کے بعد۔ اظہارِ خیال کی کامل آزادی کا حق صرف موت سے قبل کی دنیا کے لیے ہے۔ موت کے بعد کی دنیا میں خدا یہ فیصلہ کرے گا کہ کس نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا اور کس نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا۔ پھر اس کے بعد ہر ایک کے لیے اس کے دنیوی ریکارڈ کے مطابق، انعام یا سزا کا فیصلہ کیا جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2012 All issues