ایک عمومی فتنه
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۲
پولیس سے یہ مانگ کرتے ہیں کہ وہ مداخلت کرے اور جلوس کی روٹ (route) کو بدلوائے۔ مگر پولیس، مسلمانوں کی مانگ کے مطابق، جلوس کی روٹ کو نہیں بدلواتی۔ اب مسلمان مزید غصہ ہو جاتے ہیں۔ وہ پولیس پر پتھر مارتے ہیں۔ اس کے بعد پولیس مشتعل ہو جاتی ہے۔ وہ مسلمانوں کی بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے ان پر گولی چلاتی ہے۔ پولیس کی اس گولی کا شکار وہ مسلمان ہوتے ہیں جنھوں نے پولیس کو پتھر مارا، اور وہ بھی جنھوں نے پولیس کو پتھر نہیں مارا۔
یہی معاملہ اُن مقامات کا ہے جہاں زیادہ بڑے پیمانے پر یہ صورت حال پیش آرہی ہے۔ مثلاً کشمیر اور فلسطین، وغیرہ۔ ان مقامات پر بھی یہی ہوتا ہے کہ پہلے مسلمان، پولیس یا فوج پر پتھر مارتے ہیں۔ اس کے بعد پولیس یا فوج مسلمانوں کے اوپر گولی چلاتی ہے یا ہوائی جہاز سے وہ ان کے اوپر بم گراتی ہے۔ اس طرح کے واقعات میں عملاً یہی ہوتا ہے کہ جو مسلمان براہِ راست طور پر اس فعل میں ملوث نہیں ہوتے، وہ بھی جوابی کارروائی میں فوج کی گولی اور بم کا نشانہ بنتے ہیں، یعنی ملوث ہونے والے مسلمان بھی اور ملوث نہ ہونے والے مسلمان بھی۔ اس طرح کے تمام واقعات پر قرآن کی مذکورہ آیت چسپاں ہوتی ہے۔ ایسے واقعات کو لے کر یہ احتجاج کرنا کہ فریق ثانی کی جوابی کارروائی میں قصوروار مسلمان اور غیر قصوروار مسلمان دونوں زد میں آئے، اور یہ انسانی حقوق (human rights) کے خلاف ہے۔ اس طرح کا احتجاج سرتا سر باطل ہے۔ قرآن ایسے کسی احتجاج کی تصدیق نہیں کرتا۔ اس طرح کے واقعات میں ایسا ہونا بالکل فطری ہے کہ قصوروار کے ساتھ غیر قصور وار بھی مارے جائیں۔ قرآنی اصول کے مطابق، اس طرح کے معاملے میں وہ لوگ ذمے دار قرار پاتے ہیں جنھوں نے ابتدائی طور پر اشتعال انگیزی کی کارروائی کی (9:13)۔ اس آیت کے مطابق، مسلم رہنماؤں کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ مسلم معاشرے میں اشتعال کا ماحول پیدا نہ ہونے دیں، نہ یہ کہ اشتعال کے بعد کے واقعات کو لے کر وہ شکایت اور احتجاج کا ہنگامہ برپا کریں۔ ایسی روش کا دہرا نقصان ہے۔ ایک یہ کہ ایسے لوگ خدا کے غضب کا شکار ہوں، مزید یہ کہ صورت حال کی کبھی اصلاح نہ ہو، اور وہ ہمیشہ ’’ذلت اور مسکنت‘‘ (2:61) کے اسی حال میں مبتلا رہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2012 All issues