موت کی یاد: ایک صحت مند عمل
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۲
موت کی یاد: ایک صحت مند عمل
ایک اسٹڈی کے ذریعے یہ معلوم ہوا ہے کہ موت کے بارے میں سوچنا ایک اچھی عادت ہے۔ وہ تندرستی کے لیے مفید ہے۔ اس کا یہ فائدہ ہے کہ آدمی اپنی ترجیحات اور اپنے نشانے کو دوبارہ قائم کرتا ہے۔ ایک نئے سائنسی تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ اگر آدمی کسی قبرستان سے گزرے، تب بھی وہ غیر شعوری طور اُس سے سبق لیتا ہے اور اس کے اندر مثبت تبدیلی آتی ہے اور اس کے اندر دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اس سے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ موت کے بارے میں سوچنا خطر ناک ہے، اس سے تخریبی ذہن پیدا ہوتا ہے۔ موت کی یاد سے تعصب اور تشدد کا جذبہ ابھرتا ہے۔ Thinking about death boosts health Thinking about death can actually be a good thing as an awareness of mortality can improve physical health and help in prioritizing one’s goals and values, as new study has revealed. According to a new analysis of recent scientific studies, even non-conscious thinking about death like walking by a cemetery could prompt positive changes and promote helping others. Past research suggests that thinking about death is destructive and dangerous, fuelling everything from prejudice and greed to violence. (The Times of India, New Delhi, April 21, 2012, p. 21) عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ موت کے بارے میں سوچنے سے عمل کا جذبہ سرد پڑ جاتا ہے۔ اس سے آدمی کے اندر منفی سوچ پیدا ہوتی ہے، مگر یہ صرف ایک قیاسی بات تھی۔ اس مسئلے کا باقاعدہ علمی مطالعہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کے بارے میں سوچنا ایک اچھی عادت ہے۔ اس سے آدمی کے اندر صحت مند صفات پیدا ہوتی ہیں۔ قرآن میں آیا ہے: کل نفس ذائقۃ الموت (3:185) یعنی ہر شخص کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اس سلسلے میں ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: أكثروا ذكر هادم اللذات، الموت
‹ Previous page Next page › Contents of October 2012 All issues