Al-Risala · October 2012 · page

ناقابلِ معافی جُرم

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۲

ناقابلِ معافی جُرم

ایک حدیثِ قدسی کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: الکبریاء ردائی، والعظمة إزاري، فمن نازعني واحداً منہما قذفته في النار (سنن أبي داؤد، رقم الحديث: 3570) یعنی کبر میری چادر ہے، اور عظمت میری ازار ہے، پس ان دونوں میں سے کسی میں جو شخص مجھ سے نزاع کرے گا، میں اُس کو آگ میں پھینک دوں گا اس حدیث میں تمثیل کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ ہر قسم کی بڑائی اور ہر قسم کی برتری صرف ایک خدا کا حق ہے۔ جو شخص اس معاملہ میں کلی یا جزئی طور پر خدا کا ہمسِر بننا چاہے، وہ نہ صرف دنیا میں ذلیل ہوگا، بلکہ آخرت میں اُس کو شدید تر عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مثال کے طور پر خدا کی عظمت و کبریائی کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہی عزت دینے والا ہے اور وہی ذلت دینے والا، وہی کسی کو رزق دیتا ہے اور وہی کسی کو رزق سے محروم کر دیتا ہے۔ اس کے سوا کسی کو یہ طاقت نہیں کہ کسی کو کچھ دے یا اس سے کوئی چیز چھین لے۔

مثلاً ایک شخص کو کسی آدمی پر غصہ آگیا۔ یہ غصہ انتقام تک پہنچ گیا، یہاں تک کہ وہ اس کے درپے ہو گیا کہ مذکورہ آدمی کو بے عزت کرے، وہ اُس کے رزق کا ذریعہ اس سے چھین لے، وہ اس کو اس کے ماحول میں بے جگہ بنا دے۔ کسی شخص کی طرف اس قسم کی تخریبی کوشش خدا کی عظمت و کبریائی سے گویا نزاع کرنا ہے۔ یہ نعوذ باللہ، خدا کے اختیارات کو اُس سے چھیننے کی جسارت کے ہم معنیٰ ہے۔ اس قسم کا فعل حد درجہ سنگین ہے۔ جو شخص ایسا کرنے کی کوشش کرے، وہ بظاہر اپنے حریف کے ساتھ یہ فعل کر رہا ہے، مگر حدیث کی زبان میں، وہ براہِ راست خدا سے نزاع کر رہا ہے۔ وہ خدا کے اُس نظام میں دخل دینے کی کوشش کر رہا ہے جس میں خدا نے کسی کسی دوسرے کو شرک نہیں کیا۔ یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے، خدا کی خدائی میں شریک بننے کی کوشش کرنا ہے، اور خدا کی خدائی میں شریک بننے کی کوشش بلاشبہ ایک ایسا جرم ہے جو ہرگز قابل معافی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2012 All issues

Printed page