Al-Risala · October 2012 · page

اسلام کے نام پر غیر اسلام

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۲

اسلام کے نام پر غیر اسلام

مارچ 2012 کا واقعہ ہے۔ ایک انتہا پسند ہندو لیڈر انڈیا کے ایک شہر میں پہنچے۔ وہاں ان کی تقریر ہوئی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ مکہ کا کعبہ اصل میں بتوں کا مندر تھا۔ مسلمانوں نے قبضہ کر کے اُس کو اپنی مسجد بنا لیا۔ اِس تقریر پر وہاں کے مسلمان مشتعل ہو گئے۔ انھوں نے وہاں جلوس نکالا، پر جوش نعرے لگائے۔ اِس کے نتیجے میں وہاں ہندو مسلم فساد ہو گیا۔ مقامی لوگوں کو جان و مال کا کافی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

مسلمانوں کا یہ رد عمل سرتا سر ایک قومی رد عمل تھا، اُس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ان مسلمانوں کے اندر اگر صحیح ذہن ہوتا تو وہ سوچتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب 610 عیسوی میں توحید کا مشن شروع کیا تو اُس وقت عملاً ایسا تھا کہ کعبہ میں کئی سو کی تعداد میں بت رکھے ہوئے تھے، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مشتعل نہیں ہوئے، بلکہ پر امن انداز میں آپ لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس طرح کی بے بنیاد تقریر پر مشتعل نہ ہوں، بلکہ اُسے نظر انداز کر دیں، وہ اس واقعہ کو ایک موقع (opportunity) کے طور پر استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو اسلام کا پیغام پہنچائیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ مسلمان کس طرح پیغمبر کے نام پر غیر پیغمبرانہ روش کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ وہ اسلام کے نام پر ایسی تحریکیں چلاتے ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، ایسے مسلمانوں کو جاننا چاہیے کہ معاملہ اسی دنیا میں ختم نہیں ہو جائے گا۔ آخرت میں اُن سے سوال کیا جائے گا کہ تم نے ایسا دین کہاں سے ایجاد کر لیا جس کو اللہ نے اپنے پیغمبر کے ذریعے بھیجا نہیں تھا— اِس طرح کی غوغائی سیاست بلا شبہہ اسلام کے خلاف ہے، اُس کو کبھی خدا کی نصرت ملنے والی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں اِس قسم کے ہنگامے ہر جگہ صرف مسلمانوں کے حالات کو بگاڑنے کا سبب بن رہے ہیں، نہ کہ حالات کو درست کرنے کا سبب۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2012 All issues

Printed page