Al-Risala · October 2012 · page

جائز فضول خرچی

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۲

جائز فضول خرچی

کچھ لوگ ہوتے ہیں جن کے اندر بہت زیادہ خرچ کرنے کا مزاج ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کو خوب دیتے ہیں اور خوب کھلاتے پلاتے ہیں۔ اس طرح کی عادت کو عام طور پر سخاوت کہا جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ فلاں آدمی بہت سخی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سخاوت نہیں، بلکہ فضول خرچی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے صحیح لفظ فضول خرچ ہے، نہ کہ سخی۔

قرآن میں صحیح خرچ کا ایک معیار بتایا گیا ہے۔ وہ معیار یہ ہے: الذین یؤتون ما اتوا وقلوبہم وجلة أنہم إلی ربہم راجعون (23: 60) یعنی وہ لوگ جو دیتے ہیں، تو جو کچھ وہ دیتے ہیں، اس طرح دیتے ہیں کہ ان کے دل کانپ رہے ہوتے ہیں کہ انھیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے۔ قرآن کی یہ آیت خرچ کے معاملے میں ایک حتمی معیار کو بتا رہی ہے۔ اگر خرچ کرنے والے کا حال یہ ہو کہ دوسرے کو دیتے ہوئے وہ اپنی محرومی کو یاد کر رہا ہو، دوسروں کو دیتے ہوئے اس کو یہ خیال ستا رہا ہو کہ دنیا میں تو میں دوسرے کو کھلانے کی پوزیشن میں ہوں، لیکن آخرت کے بارے میں کچھ نہیں معلوم کہ وہاں میرا کیا حال ہوگا۔ وہ دوسرے کو ٹھنڈا مشروب پلا رہا ہو اور خود اس کا اپنا حال یہ ہو کہ آخرت کی یاد میں اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہوں۔ اُس کو یہ یاد ستا رہی ہو کہ دنیا میں تو میں الید العلیا (دینے والا ہاتھ) ہوں، آخرت میں کہیں ایسا نہ ہو کہ میں الید السفلی (لینے والا) بن جاؤں۔ جن لوگوں کا خرچ مذکورہ نوعیت کا خرچ ہو، وہی اللہ کے یہاں سخی کا درجہ پائیں گے۔ اور جن لوگوں کا معاملہ اس کے برعکس ہو، جن لوگوں کا خرچ محض مزاج یا عادت (habit) کے تحت ہو رہا ہو، جو اپنی ذاتی تسکین کے لیے خرچ کرتے ہوں، اُن کا کیس بلاشبہ فضول خرچی کا کیس ہے۔ ایسے لوگ دنیا والوں کے درمیان اگر چہ سخی کی حیثیت سے مشہور ہوں، لیکن آخرت میں وہ صرف ایک فضول خرچ انسان کی حیثیت سے اٹھائے جائیں گے، جن کو قرآن میں ابلیس کا بھائی قرار دیا گیا ہے (17:27)۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2012 All issues

Printed page