Al-Risala · October 2012 · page

احیاء سنت

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۲

کرنے کا نام دین ہے۔ لوگ اپنے دنیوی ہنگاموں کو دین کا عنوان دئے ہوئے ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ آخرت کے لیے جینے اور مرنے کا نام دین ہے۔ لوگ اخبار و رہبان کے دین کو پکڑے ہوئے ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ دین وہ ہے جو خدا اور رسول سے ملا ہو۔ لوگ اپنے بزرگوں کے ارشادات وملفوظات سے لپٹے ہوئے ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ قرآن وسنت والے دین کو اپنا دین بناؤ۔ لوگ قصے کہانیوں کے ذریعے اپنا ایک دینی ایڈیشن تیار کر کے اس کی تلاوت میں مشغول ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ اس کے بجائے محکم آیات اور ثابت شدہ سنت رسول پر اپنے دین کی بنیاد رکھو۔ لوگ اپنے طور پر مختلف قسم کی مذہبی موشگافیاں ایجاد کرتے ہیں اور اس کو دین کا قائم مقام بنا لیتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ اُس صاف اور سیدھے دین کو اختیار کرو جو خدا اور رسول نے بتایا ہے اور جو اصحاب رسول کے ذریعے ہم کو پہنچا ہے۔ جو شخص اس قسم کا دین بگڑے ہوئے زمانے میں لے کر اٹھے، وہ لوگوں کی نظر میں کافر اور مشرک سے بھی زیادہ مبغوض ہو جاتا ہے، کیوں کہ وہ اُن کی دینی حیثیت کو بے بنیاد ثابت کرتا ہے۔ اس سے ان کو اپنی قیادت پر ضرب پڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اس سے ان کے معاشی مفادات درہم برہم ہوتے ہیں۔ اس سے ان کی گدّیاں چھنتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اُس کو ماننا اپنے آپ کو جمے ہوئے مفادات سے محروم کرنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ ایسا شخص ایک طرف عوام کی عافیت کوش زندگی کے لیے تازیانہ بن جاتا ہے اور دوسری طرف، خواص کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ اُن کے "شہ سوارِ اسلام" ہونے کو مشتبہ بنا رہا ہے۔ یہ چیزیں اُس شخص کو اتنی بے شمار قسم کی مخالفتوں اور مشکلات میں مبتلا کر دیتی ہیں کہ اُس کے مقابلے میں ایک دن میدانِ جنگ میں لڑ کر مر جانا کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ ان مخالفتوں میں سب سے زیادہ شدید مخالفت اُن قائدین کی طرف سے سامنے آتی ہے جو دین کے نام پر دنیوی فائدے حاصل کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ اُن کی قیادت کا راز صحیح دین کا علم بردار بننا نہیں ہوتا۔ وہ یہ کرتے ہیں کہ بگاڑ کے زمانے میں پائی جانے والی دینی شکلوں میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ کوئی کسی ادارے کی گدی پر بیٹھ جاتا ہے، کوئی دینی جشنوں اور تقرییوں میں خطابت کا جوہر دکھا کر مرجع خلائق بن جاتا ہے۔ کوئی دین کو رائج الوقت پیمانوں میں ڈھال کر لوگوں کے درمیان

‹ Previous page Next page › Contents of October 2012 All issues

Printed page