احیاء سنت
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۲
مقبولیت حاصل کر لیتا ہے۔ کوئی گزری ہوئی مقدس شخصیتوں کا سہارا لے کر اُن کے نام پر اپنا کاروبار چلا رہا ہوتا ہے۔ کوئی دین کے ایسے سستے نسخوں کی کامیاب تجارت کر رہا ہوتا ہے جس میں لوگوں کو اپنی زندگی کا ڈھانچہ بدلے بغیر جنت کی بشارتیں مل رہی ہوں___ صحیح دینی دعوت کا اٹھنا اس قسم کے تمام لوگوں کے لیے چیلنج بن جاتا ہے۔ اُس کے فروغ میں ان کو اپنا عزت و اقتدار مٹتا ہوا نظر آتا ہے۔ مزید یہ کہ ایک عرصہ تک عزت و استقبال کے جلو میں رہنے کے نتیجے میں ان کے اندر ایک قسم کا دینی کبر پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی ذات کو اور دین کو ہم معنی سمجھ لیتے ہیں۔ فطری طور پر وہ ایک ایسے شخص کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے جو اُن کی امتیازی حیثیت کو بے اعتبار ثابت کرے۔ اعاظم واکابر کی یہ مخالفت سچے دین کے علم بردار کے لیے انتہائی شدید مسائل پیدا کر دیتی ہے۔ وقت کے دینی حلقوں کی طرف سے اس کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔ اس کی بے دینی کے فتوے دئے جاتے ہیں۔ اس کی معاشیات کو برباد کیا جاتا ہے۔ اس کو ماحول میں بے جگہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے خلاف ہر قسم کی معاندانہ کارروائی کو جائز سمجھ لیا جاتا ہے۔ اکابر قوم کی مخالفت سے اصاغر قوم کو مزید جرأت ہوتی ہے، بالآخر یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ اپنی قوم کے اندر رہنا اس کے لیے انگاروں کے درمیان رہنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ ان حالات میں ”فسادِ امت“ کے وقت ”سُنت رسول“ کو زندہ کرنے کے لیے اٹھنا اتنی بے پناہ مشکلات کا سبب بن جاتا ہے جو سو بار قتل ہونے کے برابر ہے۔ اسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے شخص کے لیے اللہ کے یہاں سو شہیدوں کا اجر ہے۔ جس طرح خدا کی کوئی حد نہیں، اسی طرح خدا کے دین کی راہ میں آگے بڑھنے کی بھی کوئی حد نہیں۔ خدا کا دین گویا دنیا میں رزق الہی کا ایک عظیم دسترخوان ہے۔ اس رزق کا سب سے بڑا حصہ اُسی کو ملتا ہے جو اس راہ میں اپنے آپ کو مٹانے کے لیے تیار ہو۔ یہ عزت و شہرت کا اسٹیج نہیں، یہ بربادی کے مقامات ہیں۔ ان مقامات کو طے کرنا بلا شبہ سولی پر چڑھنے سے زیادہ سخت ہے۔ مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ آدمی دین کو اُس کی اعلیٰ سطح پر اُس وقت تک پا نہیں سکتا جب تک وہ قربانیوں کی قیمت پر دین کو حاصل کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ (41:35)
‹ Previous page Next page › Contents of October 2012 All issues