سواال
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۲
سواال
الرسالہ مارچ 2011 کے مضمون ”اللہ سے محبت“ میں درج کردہ حدیث: ”خلق الله آدم علی صورتہ “ قرآن کی آیت ”لیس کمثله شیئی (42:11) کے خلاف معلوم ہوتی ہے۔ براہ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں۔ (ڈاکٹر محمد افضل منہاس، پاکستان)
جواب
”خلق الله آدم علی صورتہ “ کی حدیث صحیح البخاری (رقم الحدیث: 6227) میں آئی ہے۔ اس کی صحت میں کوئی شک نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اس حدیث میں ’صورة‘ کا لفظ ظاہری صورت (form) کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ صفت (quality) کے معنی میں ہے۔ خود قرآن میں اللہ کے لیے اس قسم کے الفاظ آئے ہیں۔ مثلاً ’وجہ‘ (27: 55)، اور ’ید‘ (10: وغیرہ۔ یہاں بھی یہ الفاظ ظاہری صورت کے معنی میں نہیں ہیں، بلکہ وہ صفت کے معنی میں ہیں۔ قرآن اور حدیث دونوں میں جو بات کہی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو خصوصی صلاحیتیں دی ہیں جو کسی دوسری مخلوق کو نہیں دیں۔ یہ وہ صلاحیتیں ہیں جو اللہ کے اندر اپنی کامل صورت میں موجود ہیں۔ مزید یہ کہ یہ اعلیٰ صلاحیتیں اللہ کے اندر اس کی ذاتی صفت کے طور پر ہیں، جب کہ انسان کو جو محدود صلاحیتیں دی گئی ہیں، وہ صرف عطیہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جہاں تک قرآن کی آیت: لیس کمثله شیئ (42:11) کا تعلق ہے، اُس کا صحیح مطلب وہ ہے جو ابو محمد الواسطی (وفات: 1341ء) کے حوالے سے ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: لیس کذاته ذات، ولا کاسمه اسم، ولا كفعله فعل، ولا كصفته صفة، إلا من جهة موافقة اللفظ (القرطبی، 9/16) یعنی اللہ کی ذات جیسی کوئی ذات نہیں، نہ اس کے اسم جیسا کوئی اسم ہے، نہ اس کے فعل جیسا کسی کا فعل ہے، نہ اس کی صفت جیسی کسی کی صفت ہے، سو لفظی موافقت کے اعتبار سے۔ مثلاً انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کو قدرت حاصل ہے، مگر اللہ کی قدرت اور انسان کی قدرت کے درمیان صرف لفظی مشابہت ہے، نہ کہ حقیقی مشابہت۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2012 All issues