Al-Risala · October 2012 · page

سواال

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۲

the next sunday lecture. I have distibuted 51 copies of Tazkir ul Quran and over 20 copies of Islam Ek Ta'rufu. (Dr Alia Faruqui, Pakistan) • The Prophet of Peace should be made compulsory education for every student in India of course in a condensed form. Nobody had given me this version until now. I have passed it on to Dr. Ananda Thejus who is a doctor in theology and a good friend of mine. (Mrs. Susan Cherian, Fathima Sarah, Bangalore)

• I have always been an avid reader and came to Maulana sahab's writings purely by Allah's wish. I researched about Maulana sahab's writings, read his writings in the forms of books/articles, listened to a lot of his audio/video lectures posted on his website. For me all this was like a discovery. I have produced many research papers in my engineering field. After reading Maulana sahab's writings and listening to him, I get the same feeling of joy, discovery and amazement which I get when I find something new for my research work. Though I am thousands of miles away from him, I revere him, love him for the sake of Allah and have very high regard for him in my heart. I listen to his every weekly lecture dutifully, read his weekly articles and daily blogs. All this is like food to me, I can't survive without. I wish to carry forward the mission of Maualan sahab in recent times. (Abul Hasan, University of Calgary, Calgary, AB, Canada)

10- ایک خط: مولانا محترم، 24 جون 2012 کو میں دہلی میں تھا اور میں نے آپ کے لکچر میں شرکت کی جس کا عنوان تھا: پولٹیکل ایکٹوزم یا فیوٹائل ایکٹوزم (Political Activism or Futile Activism)- آپ کے لیکچر سے اسلام کے کئی اہم پہلو واضح ہوئے جس کو سن کر میں تھرلنگ کے احساس میں ڈوب گیا۔ آپ کے لکچر کو سن کر جو باتیں میں نے سمجھی ہیں وہ یہ ہیں۔ مسلمان دو سوسال سے سیاسی ایمپائر کی بازیابی کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، حالاں کہ اُس سے بھی کئی گنا زیادہ بڑا ایمپائر ہمارے پاس موجود ہے اور وہ ہے دعوہ ایمپائر، اور دعوہ ایمپائر کی موجودگی کے بعد کسی اور ایمپائر کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ امت مسلمہ کی ذمہ داری حامل قرآن ہونے کی حیثیت سے دعوت الی اللہ ہے۔ ایسی حالت میں فیوٹائل ایکٹوزم کی کیا ضرورت، اللہ نے ہمیں دعوہ ایمپائر کے روپ میں گلوبل ایمپائر دے دیا ہے۔ اب سارے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔ اب ہمارے لئے فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ ہم گلوبل دعوت کے لیے جدوجہد کریں۔ دوسری اہم بات یہ تھی کہ قرآن کے مطابق، ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم خود قسط یعنی عدل کو اپنائیں نہ کہ قسط کو نافذ کرنے کے لیے پر تشدد تحریک چلائیں۔ اب ہمارے لئے ٹکراؤ کا کوئی جواز نہیں۔ ہمارے لئے اب صحیح طور پر صرف ایک ہی انتخاب ہے، وہ یہ کہ دعوہ ایمپائر اور اظہار رائے کی آزادی جیسے مواقع کو استعمال کرتے ہوئے ہم خدا کے پیغام کو ساری انسانیت تک پہنچا دیں، مولانا، دعوہ ایمپائر کے اس تصور نے میرے اندر ایک نئی روح بھر دی ہے۔ (حافظ ابوالحکم محمد دانیال، بی ایس سی، پٹنہ، بہار)

‹ Previous page Next page › Contents of October 2012 All issues

Printed page