Al-Risala · November 2012 · page

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

ترکی کی دریافت Turkey Rediscovered پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مشن 610 عیسوی میں مکہ میں شروع کیا۔ تقریباً 13 سال کے بعد 622 عیسوی میں آپ مکہ سے مدینہ چلے گئے۔ اس واقعے کو اسلامی تاریخ میں ہجرت کہا جاتا ہے۔ ہجرت سے پہلے آپ نے پیشین گوئی کے انداز میں ایک بات کہی تھی جو حدیث کی کتابوں میں ان الفاظ میں آئی ہے: أمرت بقرية تأكل القرى۔ يقولون: يثرب، وهي المدينة (صحیح البخاري، رقم الحدیث: 1748) یعنی مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے، وہ تمام بستیوں کو کھا جائے گی۔ لوگ اُس کو یثرب کہتے ہیں، لیکن وہ مدینہ ہے۔

یہ حدیث سادہ طور پر مدینہ کی پر اسرار فضیلت کے بارے میں نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں تاریخ کا ایک قانون بیان کیا گیا ہے۔ یہ قانون تاریخ میں بار بار واقعہ بنا ہے، پھر یہی قانون، مدینہ (یثرب) کے حق میں واقعہ بنا۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا، جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے اور یہاں اپنے پیغمبرانہ مشن کی منصوبہ بندی کی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب تک آپ مکہ میں تھے، آپ کا مشن عملاً ایک مقامی مشن کی حیثیت رکھتا تھا، مگر جب آپ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو آپ کا مشن بہت جلد پورے ملک (عرب) میں پھیل گیا۔ اگر چہ پیشگی طور پر کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی علاقہ بظاہر صرف ایک علاقہ معلوم ہوتا ہے، مگر بالقوہ طور پر وہ اپنے اندر وسیع ترا مکانات کو چھپائے ہوئے ہوتا ہے۔ اُس کی جغرافی حدیں بظاہر محدود ہوتی ہیں، لیکن اس کی امکانی حدیں اتنی زیادہ وسیع ہوتی ہیں کہ وہ دوسرے تمام علاقوں کو اپنے اندر سمیٹ لینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ راقم الحروف کے نزدیک، ترکی اسی قسم کا ایک ملک ہے۔ ترکی میں اس کے تمام امکانات موجود ہیں کہ وہ اسلامی دعوت کے لیے دور جدید میں ایک عالمی رول ادا کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues

Printed page