Al-Risala · November 2012 · page

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

ترکی اور بقیہ مسلم دنیا کے درمیان لسانی بعد (language gap) تھا، اس لیے بقیہ مسلم دنیا کے لوگ ترکی کے اس امکان (potential) سے عملاً نا واقف رہے۔

کسی علاقے کی یہ امکانی حیثیت اتفاقی طور پر نہیں بنتی، بلکہ وہ لمبی مدت کے بعد بنتی ہے۔ اُس مقام کا جغرافیہ، اس کی تاریخ، اس کے سماجی حالات، وہاں کے لوگوں کا مزاج، وہاں کے ادارے (institutions)، وہاں پیش آنے والے واقعات و حوادث، سب اس کی تشکیل میں اپنا رول ادا کرتے ہیں۔ کوئی لیڈر یا ریفارمر بطور خود واقعات کو وجود میں نہیں لاتا۔ وہ صرف یہ کرتا ہے کہ گہرے مطالعے کے بعد وہ اُس علاقے کے امکانات کو دریافت کرے اور پھر دانش مندانہ منصوبہ بندی کے ذریعے اس کے امکان (potential) کو واقعہ (actual) بنائے۔

زیرِ نظر مقالے میں اسی اعتبار سے جدید ترکی کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ یہ صرف ایک مقالہ نہیں ہے، بلکہ وہ ترکی کے بارے میں راقم الحروف کا ایک ویژن (vision) ہے، وہ ایک مشن کا چارٹر (charter) ہے، وہ ترکی کے حال کی روشنی میں ترکی کے مستقبل کا ایک بیان ہے۔ ترکی سے میرا تعلق میں 1938 میں تعلیم کے لئے انڈیا کے ایک عربی مدرسہ (الاصلاح) میں داخل ہوا۔ اسی سال ترکی میں مصطفی کمال اتاترک کا انتقال ہوا تھا۔ اس طرح تقریباً 75 سال سے میں ترکی اور اتاترک کا نام سنتا رہا ہوں۔ اس موضوع کے بارے میں جو کچھ اردو، عربی اور انگریزی میں لکھا گیا ہے، اس کا بھی ایک قابلِ لحاظ حصہ میں نے پڑھا ہے۔ لیکن ترکی کی حقیقت میں کیا ہے، اس کے بارے میں بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی بے خبری میں جی رہا تھا، ترکی اور اتاترک کا نام میرے ذہن میں، دوسروں کی دی ہوئی معلومات کی بنیاد پر ایک منفی نام تھا، جو ابھی حال تک باقی رہا۔ یکم مئی 2012 کو پہلی بار مجھے موقع ملا کہ میں ترکی کا سفر کروں۔ یہ سفر ”سیرتِ رسول‘ کے موضوع پر ہونے والی ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کے لئے تھا۔ اس میں 60 ملکوں کے نمائندے شریک ہوئے ۔ اس سلسلے میں مجھے تقریباً ایک ہفتہ ترکی میں قیام کا موقع ملا۔ یہ سفر

‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues

Printed page