امریکا کا سفر
الرسالہ، فروری ۲۰۱۲
امریکا کا سفر
24 جون 2011 کی سہ پہر کو ہم لوگ بذریعہ کار بن سلیم (Bensalem) سے نیو یارک کے لیے روانہ ہوئے۔ وہاں ہم کو ڈاکٹر وقار عالم کے یہاں پہنچنا تھا۔ میں نے اپنے ساتھیوں کے ہم راہ اس سفر کو بذریعہ کار طے کیا۔ 24 جون 2011 کی شام کو ڈاکٹر وقار عالم کے گھر پر ایک پروگرام ہوا۔ اُن کا گھر اسٹیٹن آئی لینڈ (Staten Island) میں واقع ہے۔ یہاں میں نے جنت کے موضوع پر 40 منٹ کی ایک تقریر کی۔ اس کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ میں نے ایک بات یہ کہی کہ جنت کسی کو سفارش (recommendation) کی بنیاد پر ملنے والی نہیں۔ جنت صرف اُن افراد کو ملے گی جو اپنے اندر جنتی شخصیت کی تعمیر کریں۔ اسی تعمیر شخصیت کو قرآن میں تزکیہ کہا گیا ہے۔ ڈاکٹر وقار عالم کے گھر پر ایک عرب عالم ہشام مصری سے ملاقات ہوئی۔ وہ عربی کے علاوہ انگریزی زبان جانتے تھے۔ اُن سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ وہ مسلمانوں کے موجودہ جہاد کو ایک حدیث (من رأى منكم منكراً فلیغیرہ بیدہ) کی بنیاد پر درست قرار دیتے تھے۔ میں نے کہا کہ خود اس حدیث سے ثابت ہے کہ ’’استطاعت‘‘ شرط ہے۔ جہاں استطاعت نہ ہو، وہاں خاموشی اور دعا ہے، نہ کہ متشددانہ ٹکراؤ۔
24 جون 2011 کی شام کو ایک روسی ریڈیو چینل کی دو خواتین ملاقات کے لیے آئیں۔ انھوں نے میرا اور میرے ساتھیوں کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ہمارے موجودہ امریکی سفر کے بارے میں تھا۔ یہ ریڈیو چینل اُن روسیوں کے لیے ہے جو روس سے باہر امریکا اور دوسرے ملکوں میں رہتے ہیں۔ یہ 450 شہروں میں سنا جاتا ہے۔ ہمارے ساتھیوں نے ان روسی خواتین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے۔ اب وہ امریکا میں رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں باقاعدہ آپ کا میگزین اور کتابیں پڑھتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ سے پورا اتفاق رکھتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ میں اگر پاکستان میں ہوتا تو میں آپ کے نظریے کی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues