امریکا کا سفر
الرسالہ، فروری ۲۰۱۲
صداقت کو سمجھ نہ پاتا۔ کیوں کہ پاکستان میں بہت زیادہ منفی ماحول ہے، جب کہ آپ کا نظریہ مکمل طور پر مثبت بنیاد پر قائم ہے۔ اس کو میں اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ میں امریکا آیا اور یہاں کے کھلے ماحول میں مجھے آپ کے لٹریچر کو پڑھنے کا موقع ملا۔
25 جون 2011 کی صبح کو نماز فجر کے بعد ڈاکٹر وقار عالم کے گھر پر دوبارہ ایک نشست ہوئی۔ اس نشست میں میں نے ایک گھنٹہ کی تقرير کی۔ اس نشست میں میں نے چار چیزیں بتائیں : 1- ڈسکوری کے درجہ میں اللہ کو پانا۔
2- اللہ سے محبت (strong affection) کے درجہ میں تعلق ہونا۔
3- ہر موقع کو پوائنٹ آف ریفرنس بنا کر ذکرودعا کرنا۔
4- میں نے اپنا تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ 1983 میں امریکا میں مجھے ایک انتہائی تجربہ ہوا، جب کہ مجھے نیو یارک کے ائر پورٹ سے واپس کر دیا گیا تھا (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: سفر نامہ، جلد اول، صفحہ 470)۔ لیکن میں نے اس واقعے سے منفی تاثر نہیں لیا، بلکہ یہ دعا کی کہ آخرت میں اگر ایسا ہو کہ جنت کے گیٹ سے مجھے واپس کر دیا جائے تو میرا کیا حال ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ اسوہ حسنہ کی آیت (33: 21) کو کچھ لوگوں نے بے معنی بحث کا موضوع بنا لیا ہے، حالاں کہ اس میں ایک سادہ حقیقت بتائی گئی ہے، یعنی یہ کہ دین کی نظری تعلیم (آئیڈیالوجی) قرآن سے لو اور اس کا پریکٹیکل ماڈل رسول کی زندگی سے اخذ کرو۔ 25 جون 2011 کی صبح کو میں ڈاکٹر وقار عالم کے گھر میں بیسمنٹ (basement) میں بیٹھا ہوا تھا، یہاں تک کہ دھوپ اندر آنے لگی۔ میں نے پوچھا کہ میں تو بیسمنٹ میں بیٹھا ہوں، اتنی زیادہ دھوپ کہاں سے آرہی ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ یہاں دو قسم کے بیسمنٹ بنتے ہیں۔ ایک وہ جو پورا کا پورا انڈر گراؤنڈ ہوتا ہے جس میں دھوپ نہیں آتی۔ بیسمنٹ کا دوسرا طریقہ وہ ہے جس کو بائی لیول (bi-level) کہا جاتا ہے۔ یہ بیسمنٹ آدھا زمین میں اور آدھا اوپر ہوتا ہے۔ 25 جون 2011 کی صبح کو 9 بجے امریکا کے ایک انٹرفیتھ انسٹی ٹیوٹ تھنک ٹینک
‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues