الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲
دورِ جدید کے نقشے میں ترقی یافتہ ملکوں کے برابر جگہ حاصل کی ہے۔
اس فرق کو واضح کرنے کے لیے ایک تقابلی مثال یہاں درج کی جاتی ہے۔ جون 2011 میں راقم الحروف کا ایک سفرِ امریکا کے لیے ہوا تھا۔ اس سفر کے دوران مجھ کو ایک امریکی شہر کے مسلم سنٹر میں خطاب کرنے کا موقع ملا۔ اس اجتماع میں زیادہ تر وہ مسلمان تھے جو پاکستان سے آ کر امریکا میں مقیم ہوئے ہیں۔ میں نے اپنی تقریر کے دوران حضرت ابو بكر صدیق کا ایک واقعہ بیان کیا۔ اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے میں نے اُن کا ایک جملہ اِن الفاظ میں نقل کیا: من كان يعبد محمداً فإن محمداً قد مات، ومن كان يعبد الله فإن الله حي لا يموت (صحيح ابن ماجه، رقم الحدیث: 1329) یعنی جو شخص محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد کی وفات ہوگئی، اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ زندہ ہے، اس کی وفات ہونے والی نہیں۔
کچھ پاکستانی مسلمان میرے اس جملے پر زور زور سے بولنے لگے۔ انھوں نے اتنا ہنگامہ کیا کہ اجتماع کو انتشار کی حالت میں ختم کرنا پڑا۔ ایک پاکستانی نوجوان نے اسٹیج پر آ کر غصے میں کہا: You cited our Prophet by name several times, but you never said : صلى الله عليه وسلم اب ایک مختلف مثال لیجئے ۔ ایسا ہی ایک واقعہ ترکی کی ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں ہوا، جو 5 مئی 2012 کو ترکی کے شہر غازی عین تاب (Gaziantep) میں ہوئی تھی۔ میں نے اپنی تقریر میں دعوت الی اللہ کی اہمیت کو بتاتے ہوئے کہا کہ اصحاب رسول میں سے کئی افراد دعوت و تبلیغ کے لیے ترکی آئے ۔ یہاں ان کی قبریں ابھی تک موجود ہیں ۔ یہ اصحاب، زبانِ حال سے پیغمبر کی امت کو پکار رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں :
O Ummat-e-Muhammad, where are you? Rise and complete the prophetic mission by doing dawah work in the present world. میں نے اپنا یہ جملہ بتکرار دہرایا، دوران تقریر میں نے کئی بار رسول اللہ کا نام لیا، مگر وہاں یہ حال ہوا کہ لوگ میری بات کو سن کر رونے لگے۔ اجتماع کے بعد بہت سے لوگ مجھ سے ملے اور
‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues