Al-Risala · November 2012 · page

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

یہ معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انیسویں صدی کے ترک علما فکری زوال کی اُس حالت تک پہنچ چکے تھے، جہاں 500 سال پہلے یورپ کے مسیحی علما تھے۔ اِس زمانے کے مسیحی علما نے یہ کیا تھا کہ انھوں نے سائنس کو اپنے مذہبی عقیدے کے تابع کر رکھا تھا۔ وہ سائنس کی ہر اُس دریافت کے دشمن ہو جاتے تھے جو اُن کو اپنے مزعومہ عقیدے کے خلاف نظر آئے ۔ اِس کی ایک مثال اٹلی کا سائنس داں گلیلیو (وفات: 1642) ہے۔ گلیلیو کو آفتاب مرکزی نظریہ (helio-centric theory) پیش کرنئے پر سخت سزا دی گئی، صرف اس لیے کہ آفتاب مرکزی نظریے کو چرچ نے اپنے مذہبی عقیدے کے خلاف سمجھ لیا تھا۔

مگر یہ صرف فکری زوال کا مسئلہ تھا، وہ خدائی مذہب کا مسئلہ نہ تھا۔ اس معاملے میں اسلام کا موقف اُس حدیث سے معلوم ہوتا ہے جو صحیح مسلم میں آئی ہے۔ مدینہ میں تابیر نخل‘ کا مسئلہ پیدا ہوا۔ اُس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اصولی بات ان الفاظ میں فرمائی: أنتم أعلم بأمر دنياكم (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2363) یعنی تم اپنی دنیا کے معاملے میں زیادہ جانتے ہو۔ تابیر نخل یا پالی نیشن (pollination) کا معاملہ ایک سیکولر شعبے سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی طرح ٹیکنالوجی یا سائنس کی دریافتیں سیکولر شعبے سے تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں۔ اس طرح کے معاملات میں سائنٹفک ریسرچ کا لحاظ کیا جائے گا، اُن کو عقیدے سے جوڑ کر فتویٰ دینا ہر گز درست نہیں۔ کمال اتا ترک کی اصلاحات اصلا ایک زوال یافتہ مسلم کلچر کے خلاف تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ترکی کو قدیم روایتی دور سے نکال کرنے سائنسی دور میں پہنچانے کے لیے ایسا کرنا ضروری تھا۔ اتا ترک کی کارروائیوں کو اس کے انتہا پسندانہ طریق کار کے اعتبار سے نہیں دیکھنا چاہئے، بلکہ ضرورت ہے کہ اس کو اس کے نتیجہ (result) کے اعتبار سے دیکھا جائے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کمال ازم (Kemalism) کے نتیجے میں ترکی میں ایک نئی بیداری آئی۔ اس کے بعد ترکی میں ایک نیا دور شروع ہوا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ موجودہ دنیا کے 58 مسلم ملکوں میں ترکی ایک منفرد ملک ہے۔ بقیہ مسلم ممالک ابھی تک کم وبیش دور قدیم میں جی رہے ہیں۔ ترکی وہ واحد مسلم ملک ہے جس نے پورے معنوں میں

‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues

Printed page