دورِ شمشیر کا خاتمہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲
کمال اتاترک نے جو انقلابی کارروائیاں کیں، اُس کا مثبت تجزیہ کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس کے بعد ترکی میں شخصی سلطنت کے بجائے جمہوریت (democracy) کے دور کا آغاز ہوا، قدیم مذہبی تعلیم کی جگہ سیکولر تعلیم رائج ہوئی، مشرقی کلچر کی جگہ مغربی کلچر اختیار کیا گیا، روایتی نظام کی جگہ ہر شعبے میں ماڈرن طریقے رائج ہوئے، وغیرہ۔
اتاترک آپریشن کے بعد ترکی میں جو نئے مواقع کھلے، اُس کے نتیجے میں ترکی میں ریفارمر (reformers) پیدا ہوئے۔ مثلاً سعید نورسی (وفات : 1960) اور استاذ محمد فتح اللہ گولن (پیدائش: 1941)، وغیرہ۔ استاذ فتح اللہ گولن اور ان کے پیروؤں نے ترکی میں ایک قابلِ قدر کام انجام دیا ہے۔ انھوں نے بڑی تعداد میں جدید طرز کے تعلیمی ادارے کھولے، کلچر اور صحافت کے میدان میں انھوں نے نمایاں کام کیا، غیر سیاسی انداز میں سماج کی تعمیر کے لیے انھوں نے امتیازی کام انجام دیا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انھوں نے ترکی میں قدیم پولیٹکل انفراسٹرکچر(political infrastructure) کی جگہ بڑے پیمانے پر ایک نیا سوشل انفراسٹرکچر (social infrastructure) قائم کر دیا جو کہ اگلے مرحلے کے کام کے لیے ایک مضبوط بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔
اکیسویں صدی کے ربع اول میں اب وقت آ گیا ہے کہ ترکی میں اگلے مرحلے کا کام کیا جائے۔ یہ دعوت الی اللہ کا کام ہے۔ دعوت الی اللہ کا کام دراصل اُس کام کی تکمیل ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں صحابہ اور تابعین کے ذریعے ترکی میں انجام پایا تھا اور پھر دھیرے دھیرے وہ تقریباً ختم ہو گیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ صحابہ اور تابعین کے دعوتی مشن کو دوبارہ زندہ کیا جائے اور ترکی میں سماجی اور تمدنی اعتبار سے جو نئی بنیاد قائم ہوئی ہے، اس کو بھر پور طور پر استعمال کرتے ہوئے پیغمبرِ اسلام کے دعوتی مشن کی تکمیل کی جائے۔
دورِ شمشیر کا خاتمہ
ترکی میں عثمانی خلافت (Ottoman Empire) 1299ء میں قائم ہوئی، اور 1924ء میں عملاً وہ ختم ہوگئی۔ کمال اتاترک نے حقیقۃً عثمانی خلافت کا خاتمہ نہیں کیا تھا، بلکہ انھوں نے صرف
‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues