Al-Risala · November 2012 · page

دورِ شمشیر کا خاتمہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

اس کے خاتمہ کا اعلان کیا تھا۔ خلافت کے زمانے میں جو سیاسی کلچر رائج تھا، اُس کی نوعیت کیا تھی، اُس کا اندازہ اس واقعے سے ہوتا ہے کہ سلطان محمد فاتح (وفات: 1481) کے وقت سے یہ طریقہ رائج تھا کہ جب بھی کوئی سلطان تخت نشیں ہوتا تو اُس وقت جامع ایوب (مقبرہ حضرت ابوایوب انصاری) میں اس کی تاج پوشی کی رسم ادا کی جاتی۔ یہاں شیخ الاسلام (مفتی اعظم قسطنطنیہ) عثمانی خاندان کے بانی سلطان عثمان خان (وفات: 1326) کی تاریخی تلوار اس کی کمر میں حمائل کرتے۔ یہ خصوصی رسم سلطان کی تاج پوشی کا لازمی حصہ تھی۔

دورِ خلافت کی اس شاہانہ رسم سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُس دور میں ترکی کے اندر وہی کلچر رائج تھا، جو اُس وقت تمام دنیا میں رائج تھا، یعنی مبنی بر شمشیر کلچر۔ اس کلچر کی نمائندگی ایک قدیم فارسی شعر میں اس طرح کی گئی ہے کہ ــــ جو شمشیر زنی کرتا ہے، اُسی کے نام کا سکہ دنیا میں چلتا ہے: ہر کہ شمشیر زند، سکہ بنامش خوانند انیسویں صدی کے نصف ثانی میں یہ بات واضح ہو چکی تھی کہ زمانی تبدیلیوں کے نتیجے میں اب شمشیر کی روایتی طاقت ختم ہو چکی ہے، اس کی جگہ اب علم (سائنس) نے لے لی ہے۔ اب ایک ترمیم کے ساتھ مذکورہ فارسی شعر کو اس طرح پڑھنا چاہئے کہ ــــ جو سائنس میں آگے بڑھتا ہے، اس کا دبدبہ دنیا میں قائم ہوتا ہے:

ہر کہ سائنس زند، سکہ بنامش خوانند!

کمال اتا ترک نے ترکی میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد جو کچھ کیا، وہ اپنے عملی نشانے کے اعتبار سے یہی تھا، یعنی ترکی کو دورِ شمشیر سے نکال کر دورِ سائنس میں داخل کرنا۔ کمال اتا ترک نے اپنی آئیڈیا لوجی کو خود اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا تھا:

Science is the most reliable guide in life. (EB. 2/257)

آج جو شخص ترکی کا سفر کرتا ہے، وہ واضح طور پر دیکھتا ہے کہ قدیم ترکی کی تعمیر اگر ’’شمشیر‘‘ کے ذریعے کی گئی تھی، تو جدید ترکی کی تعمیر ’’سائنس‘‘ کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ جدید ترکی کے ہر شعبے میں

‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues

Printed page