Al-Risala · November 2012 · page

فقہی ماڈل کا نقصان

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

انھوں نے اپنے لیے نجات آخوت کا ذریعہ سمجھ لیا تھا۔

ترکی کی مسلم خلافت 1924 میں ختم ہوئی، لیکن تمام دنیا کے علما اُس کو دشمنوں کی سازش قرار دے کر اس کے خلاف شکایت اور احتجاج میں مشغول رہے۔ کسی نے اس راز کو نہیں سمجھا کہ خلافت کا ’’الغاء‘‘ دراصل ایک خدائی آپریشن تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کے اندر قدیم سیاسی ذہن ختم ہو اور ان کے اندر نیا دعوتی ذہن پیدا ہو۔ مگر مسلم رہنماؤں کے منفی ردعمل کی بنا پر 1924 کے بعد بھی مسلمانوں میں قدیم سیاسی ذہن ختم نہ ہوا، مسلمانوں کے اندر سیاسی اعتبار سے، تفکیر نو (rethinking) کا پراسس جاری نہ ہوسکا، جو کہ مطلوب تھا۔

اس کی ایک مثال بوسنیا ہر زے گووینا (Bosnia Hercegovina) کا کیس ہے۔ بوسنیا یورپ کے قلب میں واقع ہے، جو کہ قدیم زمانے میں عثمانی خلافت کا ایک حصہ تھا۔ ہر زے گووینا یوگوسلاویہ (Yugoslavia) کا ایک صوبہ ہے۔ یہاں مسلمانوں کی تعداد 45 فی صد سے کچھ زیادہ ہے۔ بوسنیا میں دسمبر 1991 میں صوبائی الیکشن ہوا۔ اس الیکشن کے بعد وہاں کے ایک مسلم لیڈر ایجا عزت بیگووچ (Alija Izetbegovic) کو وہی عہدہ مل گیا جس کو انڈیا کی اصطلاح میں چیف منسٹر کہا جاتا ہے۔ عزت بیگووچ (وفات: 2003) کو موقع تھا کہ وہ بوسنیا میں دعوتی اور تعلیمی کام کریں، مگر اپنے سیاسی شاکلہ کی بنا پر انھوں نے ایک غیر دانش مندانہ اقدام کر دیا۔ انھوں نے بوسنیا کو ایک آزاد مسلم اسٹیٹ (independent Muslim state) ڈکلیئر کر دیا۔ یوگوسلاویہ کی مرکزی حکومت کے لیے اُن کا یہ اعلان، بغاوت کا درجہ رکھتا تھا۔ چناں چہ مرکزی حکومت نے بوسنیا کے خلاف سخت فوجی کارروائی کی۔ بیگووچ کے اس اعلان سے بوسنیا کے مسلمانوں کو تباہی کے سوا کچھ اور نہیں ملا۔ سیاسی مائنڈ سیٹ (political mindset) نہ ٹوٹنے کی وجہ سے مسلمان جگہ جگہ اسی قسم کی غیر حقیقت پسندانہ سیاست چلاتے ہیں اور نتیجہ وہ اپنی تباہی میں مزید اضافہ کر لیتے ہیں۔

فقہی ماڈل کا نقصان

فقہ کا شعبہ ایک مستقل شعبہ (independent discipline) کے طور پر صحابہ اور تابعین کے

‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues

Printed page