Al-Risala · November 2012 · page

ایک حدیث رسول

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

بلکہ وہ صرف فارم کی بابت فنی بحثوں کا مجموعہ بن کر رہ گیا۔ یہ دونوں ماڈل اللہ کی مرضی کے مطابق نہ تھے، چناں چہ اللہ کو مطلوب ہوا کہ اُن کو بے رحمی کے ساتھ بلڈوزر کر کے ڈھا دیا جائے۔ یہی کام تھا جو کمال اتاترک کے ہاتھوں بیسویں صدی کے ربع اول میں انجام پایا۔ حقیقت کے اعتبار سے یہ فطرت کا بلڈوزر تھا، نہ کہ کمال اتاترک کا بلڈوزر۔

ایک حدیث رسول

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3062) یعنی بے شک اللہ اس دین کی تائید فاجر شخص سے کرے گا۔

اس حدیث میں ’فاجر‘ سے مراد وہی ہے جس کو موجودہ زمانے میں سیکولر کہا جاتا ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جہاں تک دین کی تعلیم اور دین کی تشریح کا تعلق ہے، اس کو صرف مخلص اور مومن لوگ ہی انجام دیں گے، لیکن وسیع تر معنوں میں دین کی ایک اور ضرورت ہے اور وہ تائید دین ہے۔ یہ تائیدی رول (supporting role) کوئی بھی شخص انجام دے سکتا ہے، حتی کہ سیکولر افراد یا سیکولر نظام بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے موقع پر عبداللہ بن اریقط کا سفری رہنما کا رول اسی قسم کے ایک تائیدی رول کی حیثیت رکھتا ہے۔

اگر یہ مانا جائے کہ کمال اتاترک محض ایک سیکولر آدمی تھے، وہ نہ کوئی مذہبی آدمی تھے اور نہ ان کا مشن کوئی مذہبی مشن تھا، تب بھی یہ ماننا ہوگا کہ مذکورہ حدیث کے مطابق، اسلام یا مسلمانوں کے لیے کمال اتاترک کا تائیدی رول ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔

سیاسی ماڈل کا نقصان

ترکی کی اسلامی خلافت کیا تھی، وہ اسلام کے نام پر خاندانی بادشاہت تھی۔ مگر اسلام کا ٹائٹل دینے کی بنا پر وہ ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے سیاست کا ماڈل بنی ہوئی تھی۔ ہر جگہ مسلمان اسی نہج کا ماڈل قائم کرنے کے لیے سیاست کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے۔ اس راہ میں جان و مال کی قربانی کو

‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues

Printed page