Al-Risala · November 2012 · page

ترکی کا رول

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

عمل ہوا۔ اس نظریے کو جغرافیہ میں ڈرفٹنگ کانٹی نینٹ تھیوری (drifting continent theory) کہا جاتا ہے۔ یہ عمل دھیرے دھیرے تقریباً 140 ملین سال تک جاری رہا۔ اس کے بعد سطح زمین کا پانی سمندروں صورت میں جمع ہو گیا اور خشکی کے علاقے 5 الگ الگ براعظم بن گئے۔ گویا کہ ترکی کا موجودہ جغرافی نقشہ بننے میں ایک سو ملین سال سے زیادہ وقت لگ گیا۔

ترکی کا یہ مختلف جغرافیہ اتفاقاً نہیں بنا۔ اس کے پیچھے یقیناً خالق کی منصوبہ بندی شامل تھی۔ اسی مختلف جغرافی ساخت کی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ بعد کے زمانے میں ترکی انسانی تاریخ میں ایک مختلف رول ادا کر سکے۔

اسلام کا ظہور عرب میں ہوا۔ مخصوص اسباب کی بنا پر عرب کے لوگ بڑی تعداد میں شام (Syria) جایا کرتے تھے۔ شام کا ملک ترکی سے ملا ہوا ہے۔ اسلام کا ظہور جب عرب میں ہوا اور اہل ایمان عرب کے باہر اطراف کے ملکوں میں تبلیغ کے لیے جانے لگے، تو اُن کی ایک تعداد شام سے گزر کر ترکی میں بھی داخل ہو گئی۔ یہ عمل صحابہ کے زمانے میں شروع ہو گیا تھا۔ چناں چہ ترکی میں بہت سے اصحاب رسول کی قبریں پائی جاتی ہیں۔ اُن میں سے ایک حضرت ابو ایوب انصاری ہیں جن کی قبر استنبول (قسطنطنیہ) میں واقع ہے۔ اس طرح ترکی کی ایک طرف قدیم مذہبی روایات کا حامل بن گیا اور دوسری طرف آبنائے باسفورس کے اوپر برٹش انجینئروں کا بنایا ہوا جدید طرز کا پل علامتی طور پر، یورپی ٹیکنالوجی کی یاد دلاتا ہے۔ اس طرح ترکی گویا مشرقی تہذیب اور مغربی تہذیب کے درمیان ایک سنگم (junction) کا کام کر رہا ہے۔

ترکی کا یہ مخصوص جغرافیہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ ترکی کا مشن کیا ہے۔ وہ مشن ہے— مشرق سے ملی ہوئی خدائی ہدایت (divine guidance) کو اہل مغرب تک پہنچانا۔

اس وقت دنیا میں تقریباً 60 مسلم ملک یا مسلم اکثریت کے علاقے ہیں، مگر ان میں سے کوئی بھی ایسا ملک نہیں جہاں مذکورہ حالات پائے جاتے ہوں۔ یہ مطلوب حالات استثنائی طور پر صرف ترکی میں پائے جاتے ہیں۔ اس لیے تقریباً یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ دعوت الی اللہ کے معاملے میں آج جو رول

‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues

Printed page