ترکی کا رول
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲
مطلوب ہے، اس کا مرکز صرف تر بن سکتا ہے، ترکی خدا وند رب العالمین کا انتخاب ہے۔ اس معاملے میں، باعتبار نتیجہ، کمال اتاترک کا بھی ایک معاون رول (supporting role) ہے۔ مسلمانوں کے مذہبی طبقے میں عام طور پر کمال اتاترک ایک بدنام شخص کی حیثیت رکھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ کمال اتاترک نے جو کچھ کیا، وہ ایک ریڈیکل آپریشن (radical operation) تھا، اور کسی بڑی تعمیر کے لیے ہمیشہ اس قسم کا ریڈیکل آپریشن ضروری ہوتا ہے۔ میرے مطالعے کے مطابق، کمال اتاترک اسلام دشمن نہ تھے، وہ دراصل اسلام کے نام پر بنائے ہوئے خود ساختہ ڈھانچے کو توڑنا چاہتے تھے۔ اُن کا نشانہ یہ تھا کہ ترکی کے لوگوں میں کٹر پن اور جمود ختم ہو۔ ترکی میں کھلے پن (openness) اور روشن خیالی (enlightenment) کا دور آئے۔ ترکی کے لوگوں کو قدیم توہم پرستانہ دور سے نکال کر جدید سائنسی دور میں داخل کیا جائے۔ ترکی میں سیکولر ایجوکیشن کو فروغ دیا جائے، وغیرہ۔ اس قسم کی انقلابی تبدیلی ریڈیکل آپریشن کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ کمال اتاترک ترکی میں جو ریفارم لانا چاہتے تھے، اس کا اندازہ خود اُن کے ایک قول سے ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ سائنس زندگی کی سب سے زیادہ قابلِ اعتماد رہنما ہے۔ کمال ازم کی حقیقت کمال اتاترک کی تحریک کو کمال ازم (Kemalism) کہا جاتا ہے۔ کمال ازم کی تحریک اینٹی اسلام تحریک نہ تھی۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، کمال ازم کی تحریک مخالف جمود (anti-stagnation) تحریک تھی۔ ترکی میں کمال اتاترک کا دور 1920 کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اس سے پہلے ترکی مکمل طور پر ذہنی جمود کا شکار ہو چکا تھا۔ یہ وقت تھا جب کہ ترکی کے پڑوسی علاقہ یورپ میں ماڈرن ایجوکیشن اور ماڈرن انڈسٹری آ چکی تھی، مگر ترکی کی قدیم روایتی دور میں پڑا ہوا تھا۔ اس صورتِ حال کے ردِ عمل کے طور پر ترکی کے بہت سے لوگوں میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ ترکی کو ماڈرنائز کیا جائے ۔ کمال اتاترک دراصل اسی ذہن کے قائد کے طور پر ابھرے۔
ترکی میں کمال اتاترک کو 1923 میں سیاسی اقتدار ملا۔ اس کے بعد انھوں نے ملک میں
‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues