Al-Risala · February 2012 · page

امریکا کا سفر

الرسالہ، فروری ۲۰۱۲

(Interfaith Institute Think Tank) کے لیے میرا ایک انٹرویو تھا۔ چناں چہ انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے مزآویت (Awet Andemicael) ڈاکٹر وقار عالم کے گھر پر اپنی ٹیم کے ساتھ آ گئیں۔ انھوں نے میرا ایک تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس انٹرویو کا موضوع انٹرفیتھ فرینڈ شپ (interfaith friendship) تھا۔ ہمارے ساتھیوں نے ان لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔ اس کو انھوں نے خوشی کے ساتھ قبول کیا۔ مزآویت نے ہماری گفتگو کا مثبت اثر لیا۔ چناں چہ انھوں نے میرے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے خواجہ کلیم الدین صاحب سے کہا: I learned a great deal from his remarks, and was deeply امریکی کلچر کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ اختلاف کو ہر ایک کا فطری حق سمجھتے ہیں۔ میں نے ایک امریکی پروفیسر سے پوچھا کہ امریکا کی ترقی کا راز کیا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ ڈیسنٹ (dissent) کا احترام کرنا۔ اس نے کہا کہ ہم ڈیسنٹ (اختلاف) کو برا نہیں سمجھتے۔ ہم ڈیسنٹ کو اُس وقت تک برداشت کرتے ہیں جب تک وہ تشدد نہ بنے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک فطری بات ہے اور یہی اسلام کا اصول بھی ہے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ: اختلاف أمتي رحـمـة (میری امت کا اختلاف رحمت ہے)۔ اس حدیث رسول میں اختلاف سے مراد وہی چیز ہے جس کو انگریزی زبان میں ڈیسنٹ کہا جاتا ہے۔

ملاقات کے دوران یہاں کئی لوگوں نے یہ بات کہی کہ ہند و پاک میں مدارس کا جو نظام ہے، اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا کہ یہ مسئلہ تبدیلی کا نہیں، بلکہ ممکن کا مسئلہ ہے۔ اگر مدارس کے نظام میں تبدیلی کی جائے تو تبدیل شدہ نظام کو چلانے کے لیے اس کے مطابق اساتذہ درکار ہوں گے۔ موجودہ حالت میں اساتذہ کی تیاری کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ موجودہ حالات میں صرف یہی ممکن ہے کہ جو لوگ مدارس سے فارغ ہوں، وہی دوبارہ اس میں استاد کی حیثیت سے کام کریں۔ میں نے کہا کہ جو لوگ مدارس کے نظام میں تبدیلی کی بات کرتے ہیں، اُن کو پہلے تربیت کے ادارے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues

Printed page