Al-Risala · November 2012 · page

اخوان رسول

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

لوگ ہوں گے جو اسی دعوتی مشن کو بعد کمیونی کیشن دور (post-communication age) میں انجام دیں گے۔

اصحابِ رسول کو قرآن میں خیر امت (3:110) کہا گیا ہے۔ خیر امت کے بارے میں حضرت عمر فاروق کا ایک قول ان الفاظ میں نقل ہوا ہے: من سرّه أن يكون من هذه الأمة فليؤد شرط الله فيها (الطبري، 5/494)۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: من فعل فعلهم، كان مثلهم (القرطبي، 4/170)۔ دونوں روایتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ خیر امت یا اصحابِ رسول کوئی پُر اسرار ٹائٹل نہیں۔ یہ دراصل ایک رول (role) کا عنوان ہے، اور وہ رول دعوتی رول ہے۔ پچھلے زمانے میں دعوتی رول ادا کرنے کے نتیجے میں اصحابِ رسول کو اصحابِ رسول ہونے کا درجہ ملا۔ اسی طرح بعد کے زمانے میں جو لوگ مطلوب دعوتی رول ادا کریں گے، اُن کو اخوانِ رسول کا درجہ ملے گا۔ اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول دونوں تاریخی رول ہیں، نہ کہ پر اسرار ٹائٹل۔ ترکی کی امتیازی خصوصیات ہیں، اُن کی بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اہل ترکی کے لیے امکانی طور پر وہ مواقع حاصل ہیں جن کو استعمال کر کے وہ اسلام کی تاریخ میں وہ رول ادا کریں جس کو حدیث میں اخوانِ رسول کا رول کہا گیا ہے۔ اس معاملے میں دوسرے مقامات کے مسلمان بھی اُن کا ساتھ دے سکتے ہیں، مگر قانونِ فطرت کے مطابق، غالباً ایک گروہ کے لیے قائدانہ رول (leading role) مقدر ہے اور دوسرے گروہ کے لیے تائیدی رول (supporting role)۔

ترکی کی امتیازی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ ترکی کی سرزمین میں بہت سے صحابہ کی قبریں ہیں۔ یہ اصحابِ رسول گویا خاموش زبان میں اہل ترکی کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول کا دعوتی قافلہ یہاں آکر رک گیا تھا۔ اب تم اکیسویں صدی میں ہو۔ اب تم کو نئے حالات اور نئے وسائل کے ذریعے اس دعوتی سفر کو آگے بڑھانا ہے، یہاں تک کہ حدیثِ رسول کی پیشین گوئی کے مطابق، دینِ حق کا کلمہ ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں داخل ہو جائے۔ یہی اخوانِ رسول کا رول ہے۔ مستقبل انتظار کر رہا ہے کہ بڑھنے والے آگے بڑھیں اور فرشتوں کے

‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues

Printed page