اخوان رسول
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲
ساری دنیا میں بسنے والے ہر عورت اور مرد تک پہنچ جائے گا۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ادخال کلمہ کا یہ واقعہ اسباب کے بغیر کسی پر اسرار انداز میں پیش آئے گا۔ قانون فطرت کے مطابق ، اس دنیا میں ہر واقعہ اسباب وعلل کے تحت پیش آتا ہے۔ یہی صورت ادخال کلمہ کے مذکورہ معاملے میں پیش آئے گی ۔ ادخال کلمہ کا یہ معاملہ بلا شبہ ایک معلوم مدخل (داخل کرنے والا) کے ذریعے ہوگا، نہ کہ کسی پر اسرار طریقے کے ذریعے۔
اس حدیث رسول میں دراصل پیشین گوئی کے انداز میں اُس دور کا ذکر ہے جس کو کمیونی کیشن کا دور (age of communication) کہا جاتا ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بعد کی تاریخ میں اہل ایمان کو عالمی کمیونیکیشن کے ذرائع حاصل ہو جائیں گے اور اس طرح اُن کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ ان ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے وہ اسلام کے پیغام کو عالمی سطح پر پہنچا سکیں، جب کہ اس سے پہلے صرف مقامی سطح پر پیغام رسانی ممکن ہوتی تھی ۔ یہی وہ چیز ہے جس کو ہم نے دعوہ ایمپائر کا نام دیا ہے۔
اخوان رسول
اب سوال یہ ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو کمیونی کیشن کے دور میں ادخال کلمہ کا یہ رول ادا کریں گے۔ اس کا جواب ایک حدیث میں ملتا ہے۔ اُس کے الفاظ یہ ہیں : وددتُ أنا قد رأينا إخواننا۔ قالوا: أولسنا إخوانك يا رسول الله ، قال : أنتم أصحابي، وإخواننا الذين لم يأتوا بعد (صحيح مسلم، رقم الحديث : 249) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ ہم اپنے اخوان (بھائیوں) کو دیکھیں ۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، کیا ہم آپ کے اخوان نہیں ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ تم میرے اصحاب ہو، ہمارے اخوان وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔ دونوں حدیثوں میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب رسول اور اخوان رسول دونوں کا مشن زمانے کے فرق کے ساتھ ، ایک ہی ہے، یعنی دعوت الی اللہ۔ فرق صرف یہ ہے کہ اصحاب رسول نے دعوت کے اس کام کو قبل کمیونی کیشن دور (pre-communication age) میں انجام دیا، اور اخوان رسول وہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues