Al-Risala · November 2012 · page

Then we saved him and those who were with

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

ایک ٹکڑے لے کر اس کی سائنٹفک جانچ کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ کشتی کی عمر متعین طور پر چار ہزار آٹھ سو سال ہے، یعنی وہی زمانہ جب کہ طوفانِ نوح آیا تھا:

A group of Chinese and Turkish evangelical explorers قرآن میں کشتی نوح کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے۔ اُن میں سے ایک وہ ہے جو سورہ العنکبوت میں پایا جاتا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: فَأَنْجَيْنَهُ وَأَصْحَبَ السَّفِينَةِ، وجعلناہا ايةً للعالمين (29:15) یعنی پھر ہم نے نوح کو اور کشتی والوں کو بچالیا۔ اور ہم نے اس کو سارے عالم کے لیے ایک نشانی بنا دیا:

Then we saved him and those who were with

حضرت نوح کی کشتی تاریخ انبیا کی قدیم ترین یادگار ہے۔ قرآن کے مذکورہ بیان کے مطابق، اس قدیم ترین یادگار کو محفوظ رکھنا اس لیے تھا، تاکہ وہ بعد کے زمانے کے لوگوں کے علم میں آئے اور اُن کے لیے دین حق کی ایک تاریخی شہادت بنے۔

مگر یہ سادہ بات نہ تھی، اس عالمی واقعے کو ظہور میں لانے کے لیے بہت سی شرطیں درکار تھیں۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ کشتی کا استوا (11:44) ایک ایسے ملک میں ہو جو اپنے جائے وقوع کے لحاظ سے عالمی رول ادا کرنے کی پوزیشن میں ہو، کشتی نوح کے ظہور کا واقعہ ایک طے شدہ وقت پر پیش آئے، جب کشتی نوح ظاہر ہو تو عالمی کمیونیکیشن کا دور آچکا ہو، یہ واقعہ جب ظہور میں آئے تو اُس وقت گلوبل سیاحت (global tourism) کا دور بھی آچکا ہو، پرنٹنگ پریس کا زمانہ آچکا ہو، تاکہ خدا کی کتاب (قرآن) کے مطبوعہ نسخے لوگوں کو دینے کے لیے تیار کئے جاسکیں، دنیا کھلے پن (openness) کے دور میں پہنچ

‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues

Printed page