Al-Risala · November 2012 · page

Then we saved him and those who were with

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

چکی ہو، اسی کے ساتھ دنیا سے کچھ چیزوں خاتمہ ہو چکا ہو۔ مثلاً مذہبی جبر، کٹر پن (rigidity)، علاحدگی پسندی (separatism)، تنگ نظری (narrow-mindedness)، وغیرہ۔

ترکی کے پہاڑ (ارارات) پر کشتی نوح کا موجود ہونا استثنائی طور پر ایک انوکھا واقعہ ہے۔ گلیشیر کا پگھلنا جب اس نوبت کو پہنچے گا، جب کہ پوری کشتی ظاہر ہو جائے اور وہاں تک پہنچنے کے راستے بھی ہموار ہو جائیں تو بلا شبہ یہ اتنا بڑا واقعہ ہوگا کہ ترکی کا نقشہ سیاحت (tourist map) میں نمبر ایک جگہ حاصل کرلے گا۔ ساری دنیا کے لوگ اس قدیم ترین عجوبہ کو دیکھنے کے لیے ترکی میں ٹوٹ پڑیں گے۔ اس طرح اہل ترکی کو یہ موقع مل جائے گا کہ وہ اپنے ملک میں رہتے ہوئے ساری دنیا تک خدا کے پیغام کو پہنچادیں۔ یہ وہ وقت ہوگا کہ جب کہ ترکی میں آنے والے سیاحوں کے لیے قرآن سب سے بڑا گفٹ آئٹم (gift item) بن جائے گا جس میں پیشگی طور پر کشتی نوح کی موجودگی کی خبر دے دی گئی تھی۔ کشتی نوح اور ترکی جیسا کہ عرض کیا گیا، حضرت نوح کی کشتی قدیم عراق (میسوپوٹامیا) کے علاقہ سے روانہ ہوئی ۔ وہ اپنے چاروں طرف مختلف مقامات کی طرف جا سکتی تھی، لیکن اس نے ایک خاص رخ پر اپنا سفر کیا۔ پھر وہ چلتی ہوئی ترکی کی مشرقی سرحد پر واقع ایک پہاڑ کے اوپر ٹھہر گئی۔ یہ سخت سردی کا علاقہ تھا۔ چناں چہ کشتی بھاری اسنوفال (heavy snow fall) کے نتیجے میں برف کے بہت بڑے تودے کے نیچے دب گئی۔ اس طرح لمبی مدت تک فاسلائزیشن (fossilization) کے عمل کے نتیجے میں وہ پتھر جیسی ہوگئی۔ اس طرح کشتی محفوظ رہی اور اکیسویں صدی میں برف پگھلنے کے نتیجے میں وہ ظاہر ہو کر لوگوں کے سامنے آگئی۔

ایسا کیوں ہوا۔ حضرت نوح کی کشتی کے لئے مختلف آپشن (option) موجود تھے، لیکن اس نے صرف ایک ہی آپشن لیا اور وہ ترکی کے پہاڑ کا آپشن تھا۔ ایسا بلا شبہ خدا کی ہدایت پر ہوا۔ اس معاملے کو اتفاقی واقعہ کے طور پر نہیں لے سکتے۔ ہمارے لئے لازم ہے کہ ہم اس کو خالق کے منصوبے کے تحت پیش آنے والا واقعہ سمجھیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues

Printed page