Al-Risala · February 2012 · page

امریکا کا سفر

الرسالہ، فروری ۲۰۱۲

اس لیے ضروری ہے کہ اُن لوگوں سے مقابلہ کیا جائے۔ میں بلاشبہہ اس طبقے سے کٹا ہوا ہوں۔ لیکن اسی کے ساتھ ملت میں دوسرا طبقہ بھی ہے جو سنجیدہ ہے، جو دوسروں کے خلاف منفی ہنگامے کے بجائے خود اپنی اصلاح کو اہمیت دیتا ہے، جو جہاد کے نام پر تشدد کے بجائے پرامن دعوت الی اللہ میں یقین رکھتا ہے۔ ملت کا یہ دوسرا طبقہ ساری دنیا میں میرے ساتھ ہے، اور اس طبقے کے تعاون سے آج ہمارا مشن ہر جگہ کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ پھر میں نے ایک عرب شاعر کا یہ شعر پڑھا: فَإِن أكُ في شراركمُ قليلٌ فَإِنِّي في خيارِ كم كثيرُ کچھ لوگوں نے ایسے سوالات کئے جن کو عام زبان میں شوشے کے سوالات کہا جاتا ہے۔ اس کو سن کر میں نے ان کو یہ حدیث سنائی: سكت عن أشياء من غير نسيان فلا تبحثوا عنها۔ میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز کے بارے میں ڈیٹا (data) موجود نہ ہو، اُس پر بحث نہ کرو، کیوں کہ ایسی باتوں میں بحث کرنے سے کنفیوژن کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ میں نے کہا کہ فلسفہ نے ایسی چیزوں میں بحث کی جس کے لیے ڈیٹا موجود نہ تھا۔ اس کے برعکس، سائنس نے اپنی کھوج کو موجود ڈیٹا (available data) تک محدود رکھا۔

26 جون 2011 کی صبح کو ہمارا قافلہ ڈاکٹر وقار عالم کے یہاں سے روانہ ہوا۔ یہاں سے چل کر ہم لوگ نیویارک میں اُس مقام پر پہنچے جس کو آج کل گراؤنڈ زیرو کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں پہلے مشہور ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی اونچی عمارت (Twin Tower) قائم تھی۔ پھر 11 ستمبر 2001 کو اڑتے ہوئے جہاز سے ٹکرا کر کچھ انتہا پسند لوگوں نے اس کو ڈھادیا۔ اب وہاں ایک نا ہموار خالی زمین (site) ہے جس کے چاروں طرف گھیر ابنا دیا گیا ہے۔ مجھے یاد آیا کہ میں 1996 میں نیویارک آیا تھا۔ 22 اگست 1996 کو اُس وقت میں اس عمارت کے اوپر بذریعہ لفٹ چڑھا تھا۔ ایک تیز رفتار لفٹ ہم لوگوں کو اوپر لے گئی۔ اوپر سے نیچے جب میں نے سڑک کی طرف دیکھا تو نیچے چلتی ہوئی گاڑیاں ٹوائے کار (toy car) کی طرح معلوم ہوتی تھیں اور انسان بونے (dwarf) دکھائی دیتے تھے۔ مگر آج یہاں اس عظیم عمارت کا کوئی وجود نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues

Printed page