امریکا کا سفر
الرسالہ، فروری ۲۰۱۲
اسی مقام کو دیکھنے کے بعد ہمارا قافلہ آگے بڑھا۔ ہم کو قریب کی مسجد کے امام فیصل عبدالرؤف (کویت) سے اُن کی رہائش گاہ پر ملاقات کرنا تھا۔ یہاں اُن سے اور ان کی اہلیہ سے ملاقات ہوئی۔ یہ لوگ عربی کے علاوہ انگریزی زبان جانتے تھے۔ ان سے دیر تک انگریزی میں باتیں ہوتی رہیں۔ گفتگو کا موضوع زیادہ تر دو تھا— امریکا میں اسلامی دعوت کے مواقع، اور مسلم دنیا میں مسلمانوں کی حالت۔ امریکا میں اسلامی دعوت کے بارے میں وہ پر امید تھے، لیکن مسلم دنیا میں مسلمانوں کی حالت کے بارے میں فکرمند تھے۔ ہم لوگوں نے دوپہر کا کھانا انھیں کی رہائش گاہ پر کھایا۔ امریکا اور کینڈا میں جو لوگ الرسالہ مشن کے دعوتی عمل میں سرگرم طور پر اپنا رول ادا کر رہے ہیں، ان میں سے ایک مزبشری اقبال (نیوجرسی)، اور مسٹر وسیم ناصر انجینئر (ٹورنٹو، کینڈا) ہیں۔ یہ لوگ مسلسل طور پر ہمارے پروگرام میں شریک رہے۔ یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد ہیں۔ یہ لوگ لمبے عرصے سے امریکا اور کینڈا میں الرسالہ فورم انٹرنیشنل کے تحت دعوتی کام کر رہے ہیں۔ امریکا میں مقیم ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ اپنے بچوں کے بارے میں ہم کو یہ فکر رہتی ہے کہ ہمارے بعد دینی اعتبار سے ان بچوں کا کیا حال ہوگا۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے بچے سیکولر اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ البتہ ہم اپنے گھر پر اس کے ساتھ بچوں کی دینی تربیت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ امریکا میں اس کو ہوم اسکولنگ (homeschooling) کہا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ جب آپ نے امریکا میں رہنے کا فیصلہ کیا تو آپ کو یہ جاننا چاہیے کہ آپ یہاں کے کلچر سے اپنے بچوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ اس کلچرل سیلاب کا مقابلہ ہوم اسکولنگ کے ذریعہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کاغذ کی دیوار سے سیلاب کا مقابلہ کرنا۔ تجربہ بتاتا ہے کہ غالباً کوئی ایک بچہ بھی ایسا نہیں جس کی مثال کو لے کر یہ کہا جاسکے کہ ہوم اسکولنگ کا طریقہ اپنے مطلوب نشانے کو حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ ایسی حالت میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایک طرف گھر کے ماحول کو بدلا جائے، اور دوسری طرف بچوں کے اندر دعوتی ذہن پیدا کیا جائے۔ گھر میں سادگی (simplicity) اور بچوں کے اندر دعوتی ذہن پیدا کئے بغیر اس کلچرل سیلاب کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2012 All issues