Al-Risala · November 2012 · page

ترکی کا انتخاب

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۲

انتظام کریں کہ وہاں تربیت یافتہ افراد موجود ہوں، لائبریری موجود ہو۔ وہاں قرآن کا ترجمہ مختلف زبانوں میں برائے ڈسٹری بیوشن یا برائے فروخت موجود ہو۔ وہاں اس بات کا اعلیٰ انتظام کیا جائے کہ کشتی نوح کے حوالے سے پیغمبرانہ مشن لوگوں کے سامنے اطمینان بخش صورت میں آسکے۔ گویا کہ کشتی نوح کے ظہور کا یہ مقام صرف ایک کشتی کے ظہور کا مقام نہ رہے، بلکہ وہ پورے معنوں میں جدید ترین معیار کا ایک دعوتی سنٹر بن جائے۔

خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، ہماری زمین کے لئے دو سیلاب مقدر تھا—ایک، حضرت نوح کے زمانے کا سیلاب اور دوسرا، وہ جو تاریخِ بشری کے خاتمے پر پیش آئے گا۔ کشتی نوح پہلے سیلاب کے لئے تاریخی یادگار کی حیثیت رکھتی ہے، اور دوسرے سیلاب کے لئے اس کی حیثیت تاریخی ریمائنڈر (historical reminder) کی ہے۔ اکیسویں صدی عیسوی کے ربع اول میں کشتی نوح کا ظہور گویا اس بات کی وارننگ ہے کہ لوگو، تیاری کرو، کیوں کہ آخری طوفان کا وقت قریب آ گیا ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس خدائی منصوبے کو سمجھیں اور اس کی تکمیل کر کے اللہ کے یہاں اجرِ عظیم کے مستحق بنیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں سال تک برف کے تودے میں دبے رہنے کے بعد کشتی نوح کا ظاہر ہونا صورِ اسرافیل سے پہلے کے دور کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔ اس کے بعد اگلا واقعہ صرف صورِ اسرافیل ہوگا جو گویا اس بات کا آخری اعلان ہوگا کہ عمل کرنے کا وقت ختم ہو چکا اور عمل کا انجام پانے کا دور آگیا۔

ترکی کا انتخاب

پہلی عالمی جنگ (1918-1914) دو گروپ کے درمیان ہوئی تھی — ایک اتحادی طاقت (Allied Powers) کہا جاتا تھا، اور دوسرے کو محوری طاقت (Axis Powers) کہا جاتا تھا۔ اُس وقت ترکی کے سامنے یہ سوال تھا کہ وہ دونوں گروپ میں سے کس گروپ کا ساتھ دے۔ اُس وقت مولانا محمد علی جوہر (وفات : 1931) نے اپنے انگریزی ہفتہ وار کامریڈ (Comrade) میں ایک طویل مضمون شائع کیا تھا۔ اس مضمون میں انھوں نے ترکوں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ ترکوں کا انتخاب

‹ Previous page Next page › Contents of November 2012 All issues

Printed page